یو این آئی
تہران//ایران نے آبنائے ہرمز کے انتظام کیلئے نیا قانون بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایران کے نائب اسپیکر کا کہنا ہے کہ ایک نیا قانون تیار کیا جا رہا ہے جس کے تحت اسرائیلی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔مجوزہ بل کے تحت دشمن ملکوں کے جہازوں کو اس وقت تک آبنائے ہرمزسے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی جب تک وہ جنگ کا ہرجانہ ادا نہ کر دیں۔ دیگر ممالک کے جہاز ایران سے پیشگی اجازت اور منظوری حاصل کرنے کے بعد گزر سکیں گے۔ایرانی قانون سازوں کا کہنا ہے کہ مجوزہ منصوبے کے تحت اسرائیلی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے مستقل طور پر روک دیا جائے گا، جب کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے جہازوں کو صرف اسی صورت گزرنے کی اجازت ہوگی جب وہ جنگی ہرجانہ ادا کریں۔ اس منصوبے کے تحت اس آبی گزرگاہ کو ایرانی انتظام میں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ایران انٹرنیشنل کے مطابق علی نیکزاد، جو ایرانی پارلیمان کے پہلے نائب اسپیکر ہیں، نے بندر عباس کے دورے کے دوران پارلیمنٹ کی تعمیراتی کمیٹی کے اراکین سے گفتگو میں کہا کہ 12 نکاتی منصوبے کے تحت اسرائیلی جہازوں کو کسی بھی وقت گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ دشمن ممالک کے جہازوں کو بھی اس وقت تک آبنائے عبور کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جب تک وہ جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا معاوضہ ادا نہ کریں۔ انھوں نے اسرائیل کے علاوہ کسی اور ملک کا نام نہیں لیا، تاہم ایرانی حکام ماضی میں اسی طرح کی اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے امریکا اور مشرق وسطی میں اس کے بعض عرب اتحادیوں کو دشمن ریاستیں قرار دیتے رہے ہیں۔امریکہ کی قیادت میں ایران کے خلاف جاری جنگ کے 2 ماہ بعد بھی یہ اہم آبی گزرگاہ بند ہے، جس کے باعث دنیا کی تقریبا 20 فی صد تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔ یہ آبنائے اس وقت مثر طور پر بند ہو گئی جب ایران نے خلیج فارس میں اپنے عرب ہمسایہ ممالک پر جوابی حملے شروع کیے۔13 اپریل سے امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی بھی نافذ کر رکھی ہے، جس سے اس آبنائے سے گزرنے والی آمد و رفت مزید محدود ہو گئی ہے، اور اس کا مقصد تہران کو اس آبی راستے کو دبا یا آمدنی کے ذریعے کے طور پر استعمال کرنے سے روکنا ہے۔علی نیکزاد کے مطابق پارلیمان کے زیر غور اس محصول (ٹول) منصوبے کے تحت دیگر ممالک کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے سے پہلے ایران سے اجازت لینا ہوگی۔