لوجی ! اہل کشمیر شہر شہر ، گائوں گائوں ، قریہ قریہ ، میری مانو تو سونمرگ سے سورسیار تک اور کھنہ بل سے کھادن یار تک ، یا پھر ہائے وے کے راجماش پوائنٹ سے راجدھانی ٹاپ تک من موجی ہوجائو ، ناچو گائو ، ڈھول تاشے بجائو کہ دلی دربار سے خبر ہی ایسی آئی ہے جس کو سنتے ہی سبھوں کی باچھیں کھلیں گی ۔دل دل اُوتائولا، جان جان باغ ، گالوں پر لالی لب پر مسکان پھیلے گی ۔ہم نے تو سن لی آپ بھی سن لیں اور پھر سر سے پائوں تک سارا وجود دُھن لو ۔ہم تو سن کر خوشی سے اُچھل پڑے آپ بھی گلی کوچوں، سڑک شاہراہوں پر نکل پڑو کہ موقع ہی ایسا ہے کہ بلا دریغ سستی چھوڑ کر مستی کی جائے ۔اور اگر موڑ بن جائے تو روف ونہ وُن بھی سنگ ساتھیوں کے ساتھ گایا جائے۔ اب دل تھام کے بیٹھ جائیے کہیں یہ بے چارہ اُچھل کر چھاتی سے باہر نہ کودے ،پھر اغیار طعنہ دیں گے کہ اہل کشمیر بے دلی (بغیر دل ) کے ہماری فراخ دلی کا جواب دیتے ہیں۔ دلی دربار نے جہاں ملک کشمیر کا مسلٔہ نپٹانے کے لئے تین طرح کی سٹریٹجی اپنانے کا فیصلہ لیا ہے ،اس میں یہ بات اہم ہے کہ کشمیریوں کے دل جیتنے کا راستہ اختیار کرنا ہے ۔ہے نا خوش آئند بات کہ سن کر ہی تھرک تھرک ناچنے کا موقع ہاتھ آیا؟؟؟سنا ہے دل جیتنے کے لئے دلی دربار تمام راستے چنے گا بلکہ سارے ہتھیار استعمال کرے گا ۔بھائی گھبرائو نہیں کوئی ہتھیار چلانے کی بات نہیں ، البتہ ملک کشمیر میں کوئی بات ہتھیار کے بغیر سمجھ آتی ہے نہ سلجھ جاتی ہے۔ان ہتھیاروں میں خوشی کے لئے شیرینی کے بدلے پیلٹ کی بارش، بچائو کے لئے افسپا کا لبادہ، کام چلائو کے لئے کلاشنکوف اور بانس کا عقل نما ڈنڈا جیسے استعمال ہوتا ہے ۔ہاں دل جیتنے کی بات ہے مانو کوئی جوے کا کھیل ہو رہاہے ،جس میں دائو پر اہل کشمیر کا دل ہی لگا ہے کہ ترپ کے تین پتوں کی مانند سہ طریقہ سٹریٹجی کار آمد ہوگی،جبھی تو حکم کے تین یکوں کے سبب ہی دلی دربار کے حق میں بازی چلی جائے گی ۔دو یکے تو مودی سرکار نے اپنے پاس سنبھال کر رکھے ہیں کہ بوقت ضرورت میدان میں اُتار دیں، اور ان کی حفاظت پر وشواس بردار چڈی سرکار مامور ہے۔ اور ایک حکم کا یکہ لے کر وزیر داخلہ شاہ جی واردِ کشمیر ہوئے۔ہفتہ بھر واہ واہ بٹور لی ، تجربہ کار سیاسی اور جرنلسٹ زیرک مغز ماری کرتے رہے کہ امت شاہ تو پادشاہ ہے، اپنے ہاتھ کا یکہ فلاں فلاں جگہ استعمال کریں گے۔پھر یوں ہوا کہ واضح ہدایات جاری کردیں کہ اہل کشمیر کا دل جیت لو چاہے اس کے لئے کچھ بھی طریقہ استعمال کرنا پڑے۔اور اپنی گورنر انتظامیہ نے آئو دیکھا نہ تائو دل جیتنے کے طریقے بیچ بازار لائے۔ایک تو یہ سرکاری ملازمین روز روز کے ڈیوٹی جھنجٹ سے تنگ آئے تھے، اس لئے ان کے لئے عبور و مرور کے راستے بند کر دئے کہ جب راستہ نہیں تو جائیں گے کہاں ؟چلو جی شاباش گھروں میں بیٹھ کر آرام کرو اور امر ناتھ یاتریوں کو دعائیں شبھ کامنائیںدو کہ اُن کی وجہ سے ہی آرام و سکون میسر ہوا۔پھر یہ اسکول کالج طلبا بھی روز روز وہی ٹیچر کی کھٹ پٹ سن کر اور ہوم ورک کے نام پر مشکل کام کا پٹارا گھر لے جانا بھائی بڑا تکلیف دہ کام ہے ۔ اب جو شاہراہ ہی بند ہے تو اسکول کالج کہاں سے چلیں؟؟؟یہ ہوئی نا بات کہ کتابوں سے نجات اور ہوم ورک سے چھٹکارا ۔شاہراہ جو بند ہوئی تو اپنے مریض لوگ بھی کڑوی دوائوں اورجراحی وغیرہ کے عمل سے بھی نجات حاصل کرگئے۔بھائی بیمار آپریشن ٹیبل پر ہو تو سارا خاندان پریشان اور اب تو پکا چھٹکار ا نصیب ہوا۔اس بندش کے اور بھی فائدے ہیں کہ سفر خرچے کی بچت، نجی گاڑیوں کے لئے تیل کا جھنجٹ نہیں، دفتروں سکول کالجوں میں کوئی مغز ماری نہیں بلکہ سکون ہی سکون ، کام حرام ، آرام ہی آرام۔والدین تو پاکٹ منی کی ادائیگی سے بچے، بیمار تو ڈاکٹری فیس اور دوائیوں سے نجات حاصل کر گئے ۔اب سنا ہے کہ ڈرائیور لوگ ناراض تھے کہ ان کی گاڑیاں بند لیکن ٹرین چالو ہے ،مگر دلی دربار تو دل جیتنا چاہتا ہے اس لئے ٹرین پر پابندی سے عام ڈرائیور لوگ خوش ۔ پر ہم تو حیران ہیں کہ اپنے سیاسی ایرے غیرے بلکہ نتھو خیرے بھی ہائے وے پابندی کی مخالفت کرتے ہیں ۔وہ جو تین میں ہیں نہ تیرہ میں وہ بھی نکل کر بر لب سڑک گورنر انتظامیہ کو چیتائونی دیتے ہیں کہ فوراً یہ پابندی کا حکم نامہ واپس لیں، نہیں تو ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگا ، مگر کیا کریں گورنر انتظامیہ تو وائسرائے سرکار ہیں ، ان کے کسی ایک کان پر بھی جوں تک نہیں رینگتی ۔بھلا رینگے بھی کیسے جب روز نہا دھو کر نکلیں تو جوئیں آئیں گی کہاں سے ؟؟؟یہ عام لوگ تھوڑی ہیں کہ پینے کو پانی نہیں نہائے دھوئیں بھلا کہاں اور کس سے ؟؟؟
دلی دربار کا یہ قدم ہی خوشی کا نہیں بلکہ اپنے ہل والے بھی اہل کشمیر کی پریشانی میں شریک ہیں ۔ان کا بیان بھی ناچ میری بلبل کے برابر ہے ۔جس نے نہ سنا ہو وہ دھیان دے کہ نیشنل والے اہل کشمیر کی تکالیف سے واقف ہیں یعنی پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی ۔ سواری چونکہ اپنے سامان کی خود ذمہ دار ہے، اس لئے کوئی تکلیف فہرست میں نہ آئی ہو تو اس کا فرض بنتا ہے کہ نوائے صبح سے لے کر گپکار تک اس کا حلیہ، حدودِ اربعہ، چپ و راست پہنائی، ڈھیل ڈھال وغیرہ سے ہل برداروں کو بعوض رسید آگاہ کردے اور ہل کمپلیکس چھوڑنے سے پہلے جانچ لے کہ اپنی تکلیف سے متعلق ساری جان کاری گو ش گزار کردی گئی ۔اہل کشمیر کی تکالیف سے متعلق جزوی جانکاری کے سبب اسے شامل فہرست نہیں کیا جائے گا ،نہ ہی نا مکمل جان کاری پر کوئی کاروائی ممکن ہوگی۔مکمل جان کاری کے بعد ہی نیشنلی اداکار گپکاری پریس نوٹ جا ری کردیں گے کیونکہ اخباری بیان جاری کرنا سیاست دانوں کا پیدایشی حق ہے اور اس حق سے وہ کسی بھی صورت دست بردار نہیں ہوں گے۔
ہاں ،اخباری بیان جاری کرنے کی بات چلی تو ٹریفک حادثات کے ساتھ ہجومی قتل بھی سارے وجود کو جھنجوڑ کر رکھ دئے۔مغل روڑ حادثہ میں کوئی ایک درجن جوان سال طلبا و طالبات جان کھو بیٹھے۔ کشتواڑ حادثہ میں تین درجن لوگ لقمہ ٔ اجل بنے۔ہم تو اللہ میاں کی گائے ہیں جو کچھ صاحب لوگوں نے فرمایا ہم نے بلا چون چرا تسلیم کیا لیکن کچھ کچھ منچلے بھی ہیں کہ پوچھ رہے ہیں کہ صاحب لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ عام خام لوگوں کی حفاظت کا اچھا اہتمام کریں ۔ اس لئے صاحب لوگوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ذمہ د اری فکس کی جائے ، قصور واروں کے خلاف ایکشن لی جائے۔بھلا سالہا سال سے جو حادثات پیش آتے ہیں ، لوگ مرتے ہیں پھر صاحب اقتدار لوگ اس کا تدارک کیوں نہیں کرتے مگر ہم تو اتنی سکت اور حوصلہ نہیں رکھتے کہ صاحبان اقتدار و اختیار سے سوال کریں ۔ہم تو مانتے ہیں کہ صاحبان سیاست کا پیدائشی حق ہے کہ اخباری بیان اجرا کریں ۔دُکھ کے وقت دلی ہمدردی کا اظہار کریں اور خوشی کے سمے بھی اخباری بیان کے ذریعے دلی مسرت کا لبادہ ہمارے اوپر ڈال دیں تاکہ ہم اگلے حادثے یا لمحہ مسرت تک بس اسی ادھیڑ بُن میں دبے رہیں کہ آخر اپنے سیاسی دریندروں کا منڈیٹ کیا ہے۔ ہم تو عام خام لوگ ہیں ہمارا یہ تجزیہ ہے کہ صاحبان سیاست کا پشتینی کام عیش کرنا اور اخباری بیان جاری کرنا ہے اور ایسا کام وہ بلا چون و چرا بغیر دئے کئے انجام دیتے ہیں۔جبھی تو تبریز انصاری کا ہجومی قتل ہو یا سرکاری افسران کی سیاست کاروں کے ہاتھوں مار پیٹ اس پر تعزیتی اور مذمتی پیغامات تو سینکڑوں کی تعداد میں ارسال کئے گئے ، بھلا اس سے بڑھ کر اور کیا بھی کیا جا سکتا ہے ؎
لیڈری کی سینکڑوں قسمیں اصولی طور پر
لیکن ان میں سے بہت مشہور ہیں قسمیں یہ سات
فی سبیل اللہ، مادر زاد، تنہائی پسند
اشتہاری، انقلابی، مستقل اور بے ثبات
دلاور فگارؔ
ایسا بھی نہیں کہ سرکار کچھ نہیں کرتی ،بس ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھی ہے ۔لوگ تو بس الزام دیتے ہیں کہ ملک کشمیر میں انٹر نیٹ کام چور سرکاری ملازم کی صورت اختیار کر گیا ہے کہ آئے دن معطل کیا جاتا ہے لیکن اپنی گورنر سرکار نے تو فیصلہ لیا ہے کہ اب دیہات کو بھی ڈیجٹل بنا دیا جائے گا اور پہلی فرصت میں چوالیس دیہات کو یہ سہولیت فراہم ہو گی۔ادھر وزیر خزانہ نرملا سیتھا رمن نے دھمکی دے ڈالی کہ ملک کے کسانوں کی آمدنی ۲۰۲۲ء تک دوگنی ہو گی ۔دروغ بر گردن راوی جس کا تجزیہ ہے کہ اپنے کسان بہت جلد امبانی اڈانی کے بریکٹ میں آکر اضافی آمدنی ٹیکس ادا کرنے کی دوڑ میں پیش پیش رہیں گے۔چلو بے چارے مودی سرکارکی بدولت خودکشی کرنے سے بچ جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی سرینگر اور جموں کو میٹرو پالیٹن بنایا جائے گا۔واہ گورنر راج واہ!!! ؎
میں شہر سرینگر سے کہاں بہر سفر جائوں
جی چاہتا ہے اب اس شہر میں در جائوں
اس شہرخموشاں کو چھوڑوں نہ کسی صورت
بلکہ اپنا ہی گائوں اسی شہر میںرَلائوں
مطلب اپنے شہر اچانک اس قدر بڑے اور جدید بن جائیں گے کہ سنبھالنا مشکل ہوگا۔انتظامات کی بارش ہوگی، سہولیات کا نزول ہوگا ، کچھ ہم دامن میں سمیٹیں گے، کئی ایک ٹوپی اُلٹ کے پکڑ لیں گے،کچھ ہاتھوں میں لیتے لیتے انگلیوں کے بیچ پھسل کر گر جائیں گے اور کئی ایک ہمارے پائوں تلے آکر ہمیں ہی پھسلا کر گرادیں گی۔ یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہمیں بہلا پھسلا کر ہی دم لیں۔دیہات بھی بدل جائیں گے اور ڈیجیٹل ہوتے ہوتے زمینداری بھی اینرائڈ Anroid یا لیپ ٹاپ سے کرنا شروع کردیں۔پنیری لگانے کے لئے گھر بیٹھے ڈبلیو ڈبلیو پنیری ڈاٹ کام ٹائپ کردیں اور میوہ باغات میں دوا پاشی کے لئے LANاورWAN کار آمد بنائیں جائیں۔ا ور کیا پتہ زمینیں کھودنے کے لئے ہیش ٹیگ ٹریکٹر استعمال ہو۔ویسے تو اپنے لوگ ہل جوتتے ہیں لیکن اب کی بار الیکشن وار میں ہل جوتنے کے لئے ہیش ٹیگ ہل دیکھ کر قائد ثانی کے نیشنل سوار یلغار کر ڈالیں ؎
اگر گائوں میں اپنے ڈیجیٹل ہو زمینداری
کہ بیک ٹو ولیج میں کر آئے ساری تیاری
ہل جوتنے پہ اجارہ ہے ہل والے ٹولے کا
الیکشن جیت پر ہی بھولنے کی ہے ان کو بیماری
رابط ([email protected]/9419009169)