یو این آئی
حیدرآباد//مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) میں شدید احتجاج اس وقت شروع ہو گیا جب تلنگانہ حکومت کی جانب سے یونیورسٹی کی 50 ایکڑ اراضی دوبارہ حاصل کرنے کی تجویز پر مبنی نوٹس جاری کیا گیا طلبہ نے اس اقدام کو اعلیٰ تعلیم اور عوامی تعلیمی اداروں پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے سخت مخالفت کی مانو اسٹوڈنٹس کلیکٹو کے بینر تلے طلبہ نے مرکزی لائبریری سے بابِ علم تک ریلی نکالی اور ’’لینڈ چوری نامنظور‘‘ جیسے نعرے لگائے، ساتھ ہی نوٹس کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔یہ احتجاج 15 دسمبر کو رنگاریڈی ضلع کلکٹر کے دفتر کی جانب سے مانو کے رجسٹرار اشتیاق احمد کو جاری کیے گئے نوٹس کے بعد سامنے آیا، جس میں سات دن کے اندر وضاحت طلب کی گئی تھی کہ منی کونڈا گاؤں، گندی پیٹ منڈل کے سروے نمبر 211 اور 212 میں واقع 50 ایکڑ زمین کو دوبارہ کیوں نہ حاصل کر لیا جائے۔نوٹس میں کہا گیا ہے کہ 1998 میں مانو کو الاٹ کی گئی 200 ایکڑ زمین میں سے تقریباً 150 ایکڑ پر تعمیرات موجود ہیں جبکہ 50 ایکڑ زمین خالی ہے، جسے انتظامیہ نے ’غیر استعمال‘ قرار دیا ہے۔نوٹس کے مطابق یہ زمین قیمتی سرکاری اراضی کے طور پر الاٹ کی گئی تھی اور اس کے غیر استعمال شدہ حصے شرائط کی خلاف ورزی کے تحت واپس لیے جا سکتے ہیں۔ اس میں معائنے کی رپورٹس اور سابقہ کارروائیوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ یونیورسٹی نے تفصیلی جواب داخل کرنے کے لیے دو ماہ کی مہلت طلب کی ہے۔مانو اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدر متین اشرف نے کہا کہ حکومت کا یہ قدم ایسے وقت میں متضاد ہے جب یونیورسٹی کو شدید ہاسٹل بحران کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’سینکڑوں طلبہ، خاص طور پر حاشیے پر موجود اور اقلیتی طبقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ، رہائش کے لیے پریشان ہیں۔ اس زمین کو ہاسٹلز، لائبریریوں اور تعلیمی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، نہ کہ اسے واپس لینے کے نام پر چھین لیا جائے۔‘‘اس معاملے پر سیاسی ردِعمل بھی سامنے آیا ہے۔ مرکزی وزیر جی کشن ریڈی نے الزام لگایا کہ تلنگانہ میں کانگریس حکومت یونیورسٹیوں کی زمینیں ہتھیانے کے لیے ’’مشن موڈ‘‘ میں کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’کانچا گچی باؤلی میں ایچ سی یو کی زمین کے بعد اب حکومت کی نظر اردو یونیورسٹی کی زمین پر ہے۔‘‘