کشمیر میں اردو کے متفرق پہلوئوں اور متنوع زاؤیوں کو لے کر گذشتہ چار دہائیوں میں نہایت معیاری اور سنجیدہ نوعیت کے مضامین، مقالات اور کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ حال ہی میں اردو کے ایک اُبھرتے ہوئے ادیب و ناقد ڈاکٹر الطاف انجم ؔکی کتاب’’ اردو میں ما بعد جدید تنقید‘‘ عمدہ کتابت و طباعت کے ساتھ چھپ کر ادبی حلقوں میں قبولیت اور پذیرائی حاصل کرتی جارہی ہے۔ مذکورہ کتاب ما بعد جدید تنقید کے امتیازات سے متعلق مباحث کا احاطہ کر تی ہے۔
اولاً یہ بات واضح رہے کہ اردو تنقید آئے دن نئے رجحانات اور میلانات سے ہمکنار ہو رہی ہے۔ مجھے طالب علمی کا وہ زمانہ یاد آرہا ہے جب اردو زبان و ادب کے سر بر آور دہ نقاد پروفیسر آل احمد سرورؔ مرحوم اپنے چمبر میں ایم فل کے طلبا کو ادب اورتنقید کے رشتے اور مختلف تنقیدی رویوں پر لکچر دیا کرتے تھے۔ تنقید کے بارے میں سرور صاحب کے وہ لکچرز صاف شستہ اور مشرق و مغرب کے تنقیدی مباحث کا خلاصہ ہوتے تھے ۔ لوحِ یاد داشت پر استادِ مکرم کے وہ جملے اب بھی ثبت ہیں جب وہ تنقید ، ادب اور غزل کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے تھے:
’’ تنقید کا کام گلستان میں کانٹوں کی تلاش نہیں ہے۔ اس کا مقصد روایات کا احساس ، تجربات کی پرکھ اور قدروں کا تعین ہے۔ زندگی کی طرح ادب میں بعض حقائق کو تسلیم کرنا پڑتا ہے ۔ اردو شاعری کے دامن میں اوررنگوں کے بھی بڑے حسین اور خوشمنا پھول ہیں۔ غزل اس تہذیب کی میراث ہے جس کی بنیاد جاگیردارانہ تمدن میں پڑی مگر اس نے جدید سرمایہ دارانہ تمدن سے بھی نئے نقش و نگار لئے ہیں اور اس میں اتنی عوامی اپیل اور جامعیت ہے کہ عوام کے دور میں بھی یہ ذہنی تسکین، نشاطِ زندگی اور چراغِ رہ گزر کا کام دے سکتی ہے‘‘۔
ڈاکٹر الطاف انجمؔ شعبہ ٔ شعبۂ اردو کشمیر یونیورسٹی میں اپنے طالب علمی کے زمانے سے ہی بڑے محنتی اور ادبی ذوق و شوق کی صلاحیت سے بہرہ مند رہے ۔ اردو رسائل و جرائد کا مطالعہ باقاعدگی سے کرتے رہے اور یونیورسٹی کے سمیناروں میں تب بھی اورآج بھی بھر پور دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔480صفحات پر مشتمل ان کی کتاب ’’ اردو میں مابعد جدید تنقید‘‘ ادب شناس کی بین دلیل ہے، جس پر انہوں نے کافی محنت سے کام لے کر اردو تنقید کے مسائل، مباحث، ممکنات اور مشکلات کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ تنقید کے مختلف شعبوں کا کہیں تفصیلی اور کہیں اجمالی ذکر کیا گیا ہے اور موضوعات کی فہرست اس طرح ترتیب دی گئی ہے۔’’ اکیسویں صدی میں ادبی تنقید، اردو میں جدیدیت، ہیٔتی تنقید، ساختیاتی تنقید ،ما بعد جدیدیت اور تھیوری، پس ساختیاتی تنقید، نئی تاریخیت ، قاری اساس تنقید تانیثی تنقید اور اکتشافی تنقید‘‘ وغیرہ، تنقید کے ان اہم لیکن پیچیدہ نقطہ ہائے نظر کی وضاحت و صراحت کے لئے جس و سیع مطالعہ کی ضرورت ہے، وہ ڈاکٹر الطاف صاحب کی اس کتابیات سے عیاں ہے، جو کتابیں مشرق و مغرب کی ادبی روایات اور جدید نظریات پر مبنی ہیں۔ انگریزی اور اردو کے ادباء و ناقدین میں گذشتہ نصف صدی میں ایسے لوگ بھی منظر عام پر آگئے جنہوں نے ایسی اصطلاحات وضع کر لیںجو ادبی اور علمی سطح پر بے معنیٰ ہیں، لیکن نام کمانے کی خاطر انہوں نے زبردست لفاظی کا مظاہرہ کیا۔ چنانچہ اردو میں چند ایسے حضرات کی تحریروں کو پڑھنے کا موقعہ ملا ہے جو بالکل مہمل، لایعنی اور بعید از کار ہیں، اسی طرح جیسے اردو شاعری میں آزاد نظم، آزاد غزل اور شعر منشور نے شاعری کے مستند آداب و اصول کی پائمالی کی۔ اردو ادب میں مغربی ادبیات سے سرقہ کرکے کئی نکات کو نئے انداز میں پیش کرکے ادباء کے اس گروہ نے ادب کی خدمت پیش کرکے (ادباء کے اس گروہ نے) ادبی خدمت انجام دینے کے بجائے اسے معلق باور بے راہ رو کرکے چھوڑ دیا۔ اقبال نے تب ہی کہا تھا ؎
ذرا سی بات تھی اندیشۂ عجم نے اسے
بڑھا دیا ہے فقط ذوقِ داستاں کے لئے
تنقید کا کام کسی ادب پارے کے باطن میں چھپی کیفیات و تجربات کی توضح و تشریح ہے، جب کہ ہمارے کئی محترم ناقدین نے قاری، متن قرأت، متونیت اور بین المتونیت کے اندر ادب کو پابہ جولاں کرکے رکھ دیا۔ ڈاکٹر الطاف انجم نے نہایت آسان انداز میں تنقید کی ماہیئت کو یوں واضح کیا ہے۔
’’ تنقید کے منصب کی ماہیئت کو ایک واضح ڈھانچہ عطا کرنے کے لئے تنقید کی دواہم اقسام پر نظر ڈالنا ضروری بن جاتا ہے جو نظری تنقید اور علمی تنقید کہلاتے ہیں۔ عمومی طور پر نظری تنقید مقدم ہے لیکن کچھ اساتذہ عملی تنقید کے تقدم کے لئے بھی کئی جواز پیش کرتے ہیں۔ اول الذکر کی تعریف و توضح اس طرح کی جاسکتی ہے کہ یہ تنقید کی وہ قسم ہے جس میں ہم تنقید کے اصول و ضوابطہ، اس کے مناصب و مقاصد، اس کی ماہئیت، مختلف تنقیدی کے اصول و ضوابط، مختلف تنقیدی نظریات کی تشریح اور اطلاق کے امکانات جیسے موضوعات سے بحث کرتے ہیں، جب کہ آخرالذکر یعنی عملی تنقید میں ایک منحصر میں نظریہ تنقید کو ذہن میں رکھ کر کسی تخلیقی فن پارے کے فنی اور جمالیاتی محاسن و مصائب کو سامنے لا یا جاتا ہے‘‘۔
ڈاکٹر الطاف انجم ؔنے جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے مباحث کو مختلف نقطہ ہائے نظر سے پیش کرکے ادب میں ان کے اثرات کو ثابت کرنے کی عمدہ کو شش کی ہے، ان کے خیال میں ’’ جدید یت کے تحت سامنے آئے تخلیقی فن پاروں کی زبان نہایت مبہم اور پیچیدہ تھی، کیونکہ ان فنکاروں نے حددرجہ اساطیری اور استعاری آزادی کے امتیاز اور جدیدیت کے ساتھ اس کے انسلاک اور انقطلاع کی بحث بڑے فاضلانہ انداز میںکی گئی ہے۔
’’ اردو میں مابعد جدیدتنقید‘‘ میں جو نمایاں خوبی نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ مصنف نے اردو اور انگریزی میں لکھی گئی شاہکار ادبی کتابوں سے بھر پور استفادہ کیا ہے، چنانچہ ممتاز ناقدین ادب کی کتابوں سے درجنوں اقتباسات پیش کئے گئے ہیں جو ادبی تنقید، جدیدیت، ما بعدجدیدیت تھیوری سازی اور تنقید نگاری کے بنیادی امور کی توضیح کرتے ہیں۔ مذکورہ تنقیدی بصیرت سے مملو یہ کتاب ڈاکٹر انجم کے ادبی نقطہ نظر کی بھی عکاسی کرتی ہے۔کشمیر میں حامدی کاشمیری، محمد یوسف ٹینگ، محمد زمان آزردہؔ نذیر احمد ملک، برج پریمی، پریمی رومانی، نذیر آزادؔ، شفق سوپوری، فاروق نازکی، مشعل سلطان پوری، مرحو م مجید مضمرؔ اور مرحوم فرید پربتی نے مختلف ادبی تناظرات میں انتہائی گراں قدر تنقید مضامین و مقالات تحریر کئے ہیں،جن کی ریاست اور ریاست سے باہر دابی حلقوں میں کافی پذیرائی ہوئی ہے، لیکن الطاف انجمؔ نے ’’ما بعد جدید تنقید‘‘ جیسی خوبصورت کتاب تحریر کرکے چھوٹی عمر میں ایک بڑا کارنامہ انجام دیاہے۔اردو ادب کو الطاف صاحب جیسے فعال اور تعمیری ادب کے چاہنے والوں سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ امید ہے کہ آئندہ بھی الطاف انجم اردو زبان و ادب کی خدمت، اشاعت، تشہیر اور ترسیل کی طرف بھر پور توجہ دے کر خوب سے خوب تر کی تلاش میں رواں دواں رہیں گے۔