واشنگٹن//امریکہ کی موڈرینا نامی کمپنی نے کورونا وائرس مخالف ویکسین تیار کرنے کیلئے انسانی آزمائشوں کے تیسرے مرحلے کے نتائج جاری کئے ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ کمپنی کی جانب سے تیار کئے جانے والے ویکسین کے آخری مرحلے کے ابتدائی نتائج کے مطابق یہ ویکسین کووڈ 19 سے تحفظ کے لئے لگ بھگ 95 فیصد موثر ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ابتدائی نتائج 95 مریضوں پر مبنی ہیں جن میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی تھی اور دریافت کیا گیا کہ اس ویکسین کی افادیت 94.5 فیصد ہے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے ویکسین کے ایمرجنس استعمال کی اجازت کیلئے آنے والے ہفتوں میں امریکا کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کو درخواست دینے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ٹرائل کے نتائج میں بتایا گیا کہ جن 95 افراد میں کووِڈ کی تشخیص ہوئی، ان میں سے 90 ویکسین استعمال نہیںکررہے تھے جبکہ باقی 5 کو ویکسین استعمال کرائی گئی تھی۔موڈرینا کی ویکسین کی آزمائش 30 ہزار سے زیادہ افراد پر ہورہی ہے اور یہ امریکا سے باہر اگلے سال تک دستیاب نہیں ہوسکے گی۔کمپنی کے مطابق وہ 2020 کے آخر تک 2 کروڑ ڈوز امریکا میں ترسیل کرے گی اور توقع ہے کہ اگلے سال 50 کروڑ سے ایک ارب ڈوز دنیا بھر میں تیار کئے جائیں گے۔موڈرینا پہلے ہی 10 کروڑ ڈوز امریکا کو فروخت کرنے کیلئے تیار ہوچکی ہے جبکہ مزید 40 کروڑ ڈوز فروخت کرنے کا آپشن دیا گیا ہے۔
جاپان، کینیڈا، سوئٹزرلینڈ، قطر اور اسرائیل نے بھی اس طرح کے معاہدے کئے ہیں جبکہ یورپی کمیشن بھی 8 سے 16 کروڑ ڈوز خریدنا چاہتی ہے۔موڈرینا ویکسین میں وہی ایم آر این اے ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے جو فائزر اور بائیو این ٹیک کی ویکسین میں استعمال ہوئی۔موڈرینا ویکسین کے تیسرے مرحلے کے ٹرائل کے حتمی نتائج اس وقت جاری ہوں گے جب اس میں شریک 151 رضاکاروں میں کووڈ کیسز سامنے نہیں آتے، جن کا جائزہ اوسطاً 2 ماہ سے زیادہ عرصے تک لیا جائے گا۔اگر ٹرائل کے حتمی نتائج بھی ایسے ہی متاثرکن رہے تو موڈرینا ویکسین کو فائزر ویکسین پر ایک اہم سبقت حاصل ہوگی۔فائزر ویکسین کو منفی 70 سے 80 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت کی ضرورت ہوگی جبکہ موڈرینا کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی ویکسین کی شیلف لائف اور استحکام کو بہتر کیا ہے۔یعنی یہ ویکسین عام فریج کے درجہ حرارت یعنی 2 سے 8 سینٹی گریڈ پر 30 دن کیلئے اسٹور کی جاسکتی ہے جبکہ منفی 20 سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر اسے 6 ماہ تک اسٹور کیا جاسکتا ہے۔یہ ویکسین 2 ڈوز میں استعمال کرائی جائے گی اور قیمت 50 سے 59 ڈالرز ہوگی، یعنی یہ دیگر ویکسینز سے زیادہ مہنگی ہے۔آسترازینیکا اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسین کا ایک ڈوز لگ بھگ 4 ڈالرز کا ہوگا جبکہ جانسن اینڈ جانسن اور سنوفی کی ویکسینز کی لاگت 10 ڈالرز فی ڈوز ہونے کا امکان ہے۔فائزر کی جانب سے 2 ڈوزکیلئے امریکا سے لگ بھگ 40 ڈالرزلئے جائیں گے۔
موڈرینا کی ویکسین میں جینیاتی مواد ایم آر این اے جسم میں داخل کیا جائے گا، جو اسپائیک پروٹین کو خلیات کو متاثر کرنے سے روکے گی۔فائزر ویکسین کے نتائج میں سنگین بیماری کی روک تھام کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا تھا مگر موڈرینا کے نتائج کو ایک خودمختار ڈیٹا سیفٹی مانیٹرنگ بورڈ نے جاری کیا ہے، جس میں اس پہلو کا خیال رکھا گیا۔نتائج سے بتایا گیا کہ ٹرائل کے دوران 11 رضاکاروں میں کووڈ کی سنگین شدت دیکھی گئی اور وہ سب پلیسبو گروپ میں شامل تھے۔نتائج میں یہ عندیہ بھی دیا گیا کہ یہ ویکسین معمر افراد اور اقلیتی پس منظر رکھنے والے افرادکیلئے بھی موثر ہے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ اب تک رضاکاروں کے تحفظ کیلئے حوالے سے کوئی نمایاں خدشات دریافت نہیں ہوئے، بلکہ معمولی سے معتدل ری ایکشن نظر آیا جس کی مدت مختصر تھی۔ٹرائل میں شامل 2.7 فیصد رضاکاروں نے پہلے ڈوز کے بعد انجکشن کے مقام پر تکلیف کو رپورٹ کیا جبکہ دوسرے ڈوز کے بعد 9.7 فیصد نے تھکاوٹ، 9 فیصد نے مسلز کی تکلیف اور 5 فیصد نے جوڑوں کی تکلیف کو رپورٹ کیا، کچھ کو سردرد یا انجکشن کے مقام پر سرخی جیسے مسائل کا سامنا ہوا۔