میر حسین
حیا نہیں زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے جوانی تری رہے بے داغ
ہر انسان کی زندگی کا سب سے سنہرا اور اہم ترین دور طالب علمی کا دور ہے ۔چونکہ انسان کے خوبصورت مستقبل کا انحصار شاگردی کے زمانہ پر ہی منحصر ہوتا ہے ،لہٰذا ان اہم سال کی اہمیت دوبالا ہو جاتی ہے ۔قدیم دور کے مقابلے میں موجودہ دور کے طلباء و طالبات کو زیادہ مسایل اور مقابلہ کا سامنا ہے ۔گو کہ آئے روز تعلیمی سہولیات اور دیگر وسائل کی دستیابی میں روز افزوں اضافہ ہوتا جا رہا ہے تاہم موجودہ شاگرد جدید دنیا میں بڑھ رہے تعلیمی معیار اور ہر شعبہ کے تعلیمی کمپیٹیشن سے سخت دوچار ہے ۔ تعلیم کے علاوہ اسی طالب علم کو زمانہ کے دیگر تقاضوں کی آگہی سے ہمکنار ہونا بھی ضروری ہے، ورنہ تیز رفتار زندگی کی رفتار کے ساتھ اسے آگے بڑھنے کا کوئی موقعہ ملنے والا نہیں ،بر عکس اسکے وہ دوسرے لوگوں کی رفتار کے سامنے مسل دیا جائے گا ۔
پہلے پہل والدین بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لئے کھیلنے سے روکتے تھے کیونکہ انکی سوچ کے مطابق بچوں کا وقت کھیلنے سے ضایع ہوتا ہے تاہم آج کے شاگرد کو اتنے مشکلات اور مصائب ِزمانہ کا سامنا ہے کہ والدین چاہتے ہیں کہ کسی طرح انکے بچے کھیل کود میں حصہ لیں تاکہ موبائل اور منشیات کے زہر سے انکے نور چشم محفوظ رہیں ۔قدیم دور کے بر عکس موجودہ دور کے بچوں پر کڑی نظر مرکوز رکھنے کی اشد ضرورت ہے ۔ اس نسل کی تباہی کے لئے فقط چوبیس گھنٹے درکار ہیں ۔ والدین کے لئے یہ دور اپنے بچوں کےتئیں کسی بڑے امتحان سے کم نہیں ۔ ایک طرف بچوں کی نشوونما کی تگ و دو میں مصروف تو دوسری طرف انکے تعلیمی مستقبل کی فکر میں والدین دن دوگنی اور رات چوگنی محنت کرتے ہیں لیکن اس انتھک محنت کے باوجود والدین اپنے بچوں کے جملہ زندگی کے لئے فکر مند ہیں ۔
اکثر لوگوں کی رائے ہے کہ آج کے دور میں حصول تعلیم آسان ہے کیونکہ آج ہر طالبعلم جدید سہولیات سے لیس ہے،لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ آج کے دور میں شاگرد مختلف مسایل اور مشکلوں کا شکار ہے ؟جی ہاں دوستو موجودہ نسل کے طلباء وطالبات ہی انصاف کےمتقاضی ہیں ۔کیوں ؟
کیونکہ مقابلے کا دور ہے، لہٰذا طالب علموں کو زندگی کے ہر شعبے میں اس کا سامنا ہے۔ سہولیات کی بہتات کے باوجود اسے معیاری تعلیم حاصل کرنے کا فقدان ہے ۔ اسے تجارت نما تعلیمی مرکزوں کے جال میں آنے کا خطرہ لاحق ہے۔ اسے ہر سو انٹرنیٹ کے زمانے کی تیز رفتاری کے ساتھ رفتار بڑھانے کا مسلہ در پیش ہے ۔ اسے اساتذہ کی بھر مار میں ان اساتذہ کی آرزو مارے جا رہی ہے جو اسے زمانے کا علمبردار بنانے میں کوئی کسر باقی نہ رکھے۔ اسے اسکولوں اور کالجوں کے جم غفیر میں معیاری اور مثل تربیت گاہ اسکول اور کالج کے انتخاب کا مشکل ہے ۔ اسے بے راہ روی اور فحاشی ماحول میں ایڈجسٹ ہونے سے دم گھٹ رہا ہے۔ اسے انٹرنیٹ اور دیگر سماجی ویب سائٹس کو صحیح استعمال کرنے کا مسلہ در پیش ہے۔ اسے وقت کا صحیح استعمال کرنے میں ہزارہا مشکلات نظر آتے ہیں۔ اسے تعلیمی حصول کے ساتھ ساتھ دنیا کے مختلف گوشوں سے نرم جنگ کا سامنا بھی ہے۔
اسے مستقبل کی تاریک پہلوؤں جیسے بے روزگاری وغیرہ بھی زیر نظر ہے۔ اسے والدین کے علاوہ دوستوں کی محفلیں ڈوبے لے جا رہی ہے ۔ اسے ہر کوئی سمجھنے سے قاصر ہے ۔ نہ اسکول ،نہ گھر،نہ دوست ،نہ احباب ۔ اسے زمانے کی استحصالی صورت ِحالت ملحوظِنظر ہے، اس نے اپنی آنکھوں کے سامنے ظلم و تشدد ہوتے ہوئے دیکھا ہے ۔
آج کا بچہ ،بچہ نہیں ایک موتی ہے، جس سے سنبھالنے میں سماج یکسر ناکامی کا شکار ہے اور نتیجہ میں یہ گوہر زنگ آلود ہو رہا ہے ۔ عزیز دوستو! آج کے طالب علم کے ساتھ انصاف سے کام لینے کی ضرورت ہے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے مستقبل کی نسل پیروں تلے مسلتی رہے اور ہم خاموش تماشائی بن بیٹھیں۔ طلباء و طالبات سے میری گزارش ہے کہ علامہ اقبال کے اس پیغام کو ذہن میں رکھ کر ہر رکاوٹ اور دیوار کو عبور کرکے آگے بڑھیں۔
دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر
میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
[email protected]