عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہانے پیر کو کہا کہ خواتین کی ترقی کے بغیر معاشرے کی ترقی ممکن نہیں، اور ایک ترقی یافتہ جموں و کشمیر اسی وقت ممکن ہے جب خواتین بااختیار، معاشی طور پر خودمختار ہوں اور قیادت و فیصلہ سازی میں بھرپور کردار ادا کریں۔سری نگر میںفیلوز (جینڈر ایکویٹی ایڈووکیٹس)کی اعزازی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے اس اقدام کو جموں و کشمیر میں خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت ایک ’’تاریخی اور انقلابی لمحہ‘‘قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کی خواتین نے ہمیشہ معاشرے کے سماجی تانے بانے کو مضبوط رکھنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے اور اس خطے کو ایسی باصلاحیت خواتین کی شاندار میراث حاصل ہے جنہوں نے اپنی دانش، روحانیت اور سماجی اصلاحات کے ذریعے معاشرے کی رہنمائی کی۔منوج سنہا نے کہا کہ وہ ایسے جموں و کشمیر کا خواب دیکھتے ہیں جہاں خواتین اسکولوں، صنعتوں، ادب، کاروبار، حکمرانی اور عوامی پالیسی سازی میں قائدانہ کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا، میں ایک ایسے جموں و کشمیر کا تصور کرتا ہوں جہاں ہر بچی اس یقین کے ساتھ پروان چڑھے کہ اس کے خواب قیمتی ہیں، اس کی آواز اہمیت رکھتی ہے اور اس کے مستقبل کے لیے کوئی حد مقرر نہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ سال 2029 کے بعد خواتین کی سیاسی نمائندگی میں نمایاں اضافہ ہوگا، کیونکہ ملک میں خواتین کی انتخابی سیاست میں زیادہ سے زیادہ شمولیت کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران جموں و کشمیر میں خواتین کی مالی خودمختاری کو یقینی بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں، جن میںحوصلہ، ممکن، رائز ٹوگیدر، امید، ڈی جی پی سخی، کرشی سخی اور دیگر کاروباری و خودروزگار اسکیمیں شامل ہیں۔
تعلیمی میدان میں لڑکیوں کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ طالبات مسلسل طلبہ سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں اور یونیورسٹیوں میں تقریباً 70 سے 75 فیصد گولڈ میڈلز طالبات اپنے نام کر رہی ہیں۔انہوں نے نوجوانوں اور مردوں پر بھی زور دیا کہ وہ خواتین کی قیادت کی بھرپور حمایت کریں، کیونکہ خواتین کو بااختیار بنانے کی ذمہ داری صرف خواتین پر نہیں بلکہ پورے معاشرے پر عائد ہوتی ہے۔
ترقی یافتہ جموں و کشمیر کے لیے خواتین کا بااختیار ہونا ناگزیر، خواتین کی ترقی سے ہی معاشرہ آگے بڑھتا ہے: ایل جی منوج سنہا