عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/بھارت کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے راجیہ سبھا میں مغربی ایشیا کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر ازخود بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں جاری تنازعہ انتہائی تشویشناک ہے اور بھارت تمام فریقوں سے تحمل اور مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی اپیل کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ تنازعہ 28 فروری 2026 کو شروع ہوا جس میں ایک جانب اسرائیل اور امریکہ جبکہ دوسری جانب ایران شامل ہیں، اور اس دوران کئی خلیجی ممالک بھی حملوں کی زد میں آئے۔ اس تنازعے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ خطے کے بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت نے ابتدا ہی میں تمام فریقوں سے اپیل کی تھی کہ وہ کشیدگی میں اضافہ نہ کریں اور شہریوں کی سلامتی کو ترجیح دیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مسائل کا حل صرف مکالمے اور سفارتکاری کے ذریعے ممکن ہے اور تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام ضروری ہے۔
ایس جے شنکر کے مطابق وزیر اعظم کی صدارت میں یکم مارچ کو کابینہ کمیٹی برائے سلامتی کا اجلاس بھی ہوا جس میں خطے کی صورتحال، بھارتی شہریوں کی سلامتی اور اس کے معاشی اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ خلیجی ممالک میں تقریباً ایک کروڑ بھارتی شہری مقیم ہیں جبکہ ایران میں بھی ہزاروں بھارتی طلبہ اور ملازمین موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ بھی اسی خطے سے وابستہ ہے اور خلیجی ممالک کے ساتھ بھارت کی سالانہ تجارت تقریباً 200 ارب ڈالر ہے، اس لیے وہاں پیدا ہونے والی بے یقینی بھارت کے لیے بھی باعث تشویش ہے۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ حکومت مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور بھارتی سفارت خانوں کو الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ ایران میں موجود بھارتی طلبہ کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے جبکہ متعدد بھارتی شہریوں کو ہمسایہ ممالک کے راستے واپس لانے میں مدد دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دبئی، دوحہ اور ابوظہبی جیسے ٹرانزٹ مراکز میں پھنسے بھارتی مسافروں کی بھی مدد کی جا رہی ہے اور اب تک تقریباً 67 ہزار بھارتی شہری واپس وطن لوٹ چکے ہیں۔ اس مقصد کے لیے گزشتہ دنوں درجنوں خصوصی پروازیں بھی چلائی گئی ہیں۔
ایس جے شنکر نے بتایا کہ وزیر اعظم نے متحدہ عرب امارات، قطر، سعودی عرب، کویت، بحرین، عمان، اردن اور اسرائیل کے رہنماؤں سے رابطہ کر کے بھارتی شہریوں کی سلامتی کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی پالیسی تین بنیادی اصولوں پر مبنی ہے:
خطے میں امن، مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی حمایت۔
بیرون ملک مقیم بھارتی شہریوں کی حفاظت کو ترجیح۔
قومی مفادات خصوصاً توانائی اور تجارت کے تحفظ کو یقینی بنانا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ حکومت اس بحران کے دوران ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے تاکہ بھارتی شہریوں کی سلامتی اور ملک کے معاشی مفادات کو محفوظ رکھا جا سکے۔
مغربی ایشیا کی صورتحال تشویشناک، بھارت امن اور مذاکرات کا حامی ہے: ایس جے شنکر