عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف سنیل شرما نے پیر کے روز کہا کہ اسپیکر عبدالرحیم راتھر کی جانب سے ایوانی کمیٹیوں کے چیئرمینوں کی تقرری کے معاملے پر دی گئی وضاحت تحفظات دور کرنے کے بجائے غلطی پر پردہ ڈالنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسپیکر کو چھ غیر مالیاتی ہاؤس کمیٹیوں کے سربراہان مقرر کرنے کا اختیار ضرور حاصل ہے، تاہم یہ اختیار جماعتی مفادات کے بجائے انصاف، روایات اور طے شدہ پارلیمانی اصولوں کے مطابق استعمال ہونا چاہیے۔
اسپیکر کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سنیل شرما نے کہا کہ ایسا تاثر دینے کی کوشش کی گئی جیسے وہ تین مالیاتی کمیٹیوں کی تشکیل کے عمل سے ناواقف ہوں، جبکہ انہوں نے جمعہ کے روز جاری اپنے بیان میں واضح طور پر کہا تھا کہ چھ غیر مالیاتی کمیٹیوں کے سربراہان کی تقرری میں اپوزیشن کو نظرانداز کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) کی چیئرمین شپ بھارتیہ جنتا پارٹی کو دینا کوئی احسان نہیں بلکہ ملک بھر میں رائج ایک دیرینہ پارلیمانی روایت ہے۔ ان کے مطابق پارلیمنٹ، ریاستوں اور قانون ساز اسمبلی رکھنے والے مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ہمیشہ پی اے سی چیئرمین کا عہدہ اپوزیشن کے پاس رہا ہے۔
سنیل شرما نے اسپیکر کے اس مؤقف پر بھی سوال اٹھایا کہ بی جے پی کے سینئر اراکین کو مالیاتی کمیٹیوں میں ایڈجسٹ کیا گیا، اس لیے انہیں دیگر کمیٹیوں کی سربراہی نہیں دی جا سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر سینیارٹی کا اصول اپنایا گیا تو پھر حکمران اتحاد کے پہلی بار منتخب ہونے والے اراکین اسمبلی کو غیر مالیاتی کمیٹیوں کا سربراہ کیوں بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے کئی دوسرے مرتبہ منتخب ہونے والے اراکین مالیاتی کمیٹیوں کا حصہ نہیں ہیں، اس کے باوجود حکمران اتحاد کے پہلی بار منتخب ایم ایل ایز کو کمیٹیوں کی سربراہی دی گئی۔
قائد حزبِ اختلاف نے مزید کہا کہ اسپیکر کو غیر مالیاتی کمیٹیوں کے چیئرمین اور اراکین نامزد کرنے کا اختیار حاصل ہے، لیکن یہ صوابدید جماعتی بنیادوں پر نہیں بلکہ متناسب نمائندگی اور پارلیمانی روایات کے اصول کے مطابق استعمال ہونی چاہیے۔
اسپیکر کی وضاحت تحفظات دور کرنے کے بجائے غلطی پر پردہ ڈالنے کی کوشش: سنیل شرما