عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/شری ماتا ویشنو دیوی سنگھرش سمیتی کے رہنماؤں نے بدھ کے روز ریاسی میں واقع شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس داخلوں کی منسوخی کو اپنی فتح قرار دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا شکریہ ادا کیا اور فیصلے میں ان کے مثبت کردار کی ستائش کی۔ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سمیتی قیادت نے کہا کہ احتجاج کے دوران لیفٹیننٹ گورنر کے خلاف دیے گئے بیانات کو غلط مفہوم میں نہ لیا جائے، کیونکہ وہ تحریک کی شدت کا حصہ تھے۔رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ انہیں معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر کے ساتھ ساتھ مرکزی وزیر داخلہ اور مرکزی وزیر صحت نے بھی میڈیکل کالج کی تمام ایم بی بی ایس نشستوں پر داخلے منسوخ کرنے کے فیصلے میں کُلیدی کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً 45 دن تک جاری رہنے والی اس احتجاجکو معاشرے کے مختلف طبقوں کی حمایت حاصل رہی۔ سمیتی کے ایک رہنما نے کہااحتجاج کے دوران ہر طبقہ ہمارے ساتھ کھڑا رہا۔ ہم مرکزی حکومت کے شکر گزار ہیں کہ اس نے ہماری نظر میں ہندو برادری کے جذبات کا احترام کیا۔سنگھرش سمیتی نے جموں کے میڈیا کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے صحافیوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے ان کے مطالبات کو اجاگر کیا اور احتجاج کو مثبت انداز میں پیش کیا۔
پریس کانفرنس کے بعد سمیتی کے رہنماؤں اور حامیوں نے مٹھائیاں تقسیم کیں، رقص کیا اور ڈھول بجا کر اپنی تحریک کی کامیابی کا جشن منایا۔واضح رہے کہ شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں داخلوں کی منسوخی جموں و کشمیر بھر میں شدید سیاسی اور سماجی بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے، جہاں میرٹ، طرزِ حکمرانی اور ہر معاملے میں مذہب کے امتزاج جیسے نکات پر مختلف حلقوں کی جانب سے ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں داخلوں کی منسوخی ، سنگھرش سمیتی کا لیفٹنٹ گورنر کے تئیں اظہارِ تشکر