عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/وزیر برائے صحت و تعلیم سکینہ یتو کا کہنا ہے کہ لواحقین کی مانگ پر کولگام واقعے کی جوڈیشل تحقیقات ہونی چاہئے۔انہوں نے کہااگر اہلخانہ مانگ کر رہے ہیں تو اس واقعے کی جوڈیشل تحقیقات ہونی چاہئے تاکہ ان کے خدشات دور ہوسکیں۔
موصوف وزیر نے ان باتوں کا اظہار بدھ کے روز یہاں نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرنے کے دوران کیا۔انہوں نے کہاکولگام میں جن نوجوانوں کی لاشیں بر آمد کی گئیں،میں نے ان کے گھر جاکر اہلخانہ سے تعزیت کی اور ان کو یقین دلایا کہ حکومت ان کی ہر ممکن مدد کرے گی۔
اس واقعے کی جوڈیشل تحقیقات کے بارے میں ان کا کہنا تھااگر اہلخانہ مانگ کر رہے ہیں تو اس واقعے کی جوڈیشل تحقیقات ہونی چاہئے تاکہ ان کے خدشات دور ہوسکیں اور حقائق سامنے آسکیں۔ریزرویشن پالیسی کے بارے میں پوچھے جانے پر سکینہ یتو نے کہااس کے لئے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے،حکومت سنجیدہ ہے اور یہ کمیٹی 6 ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
ریاستی درجے کی بحالی کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہاہم کوئی نئی چیز نہیں مانگتے ہیں یہ چیز ہمارے پاس پہلے ہی موجود تھی۔ان کا کہنا تھاجموں و کشمیر ملک کا تاج ہے اور ایک پرانی ریاست ہے جس کو یونین ٹریٹری میں تبدیل کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ریاستی درجے کی بحالی ہم سب کا مطالبہ ہے۔
کولگام واقعے کی جوڈیشل تحقیقات ہونی چاہئے: سکینہ یتو