جموں// جموں و کشمیر پولیس جلد ہی انٹرپول (انٹرنیشنل کریمنل پولیس آرگنائزیشن) سے پاکستان اور پاکستان زیر انتظام جموں و کشمیر میں مقیم 36 کٹر ملی ٹینٹوں کو پکڑنے کے لیے ’رابطہ‘ کر سکتی ہے جو کشتواڑ ضلع سے تعلق رکھتے ہیں اور مختلف عسکری تنظیموں سے وابستہ ہیں۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ ضلع کشتواڑ سے تعلق رکھنے والے مختلف تنظیموں کے 36 کٹر ملی ٹینٹوں کی پہلے ہی شناخت ہو چکی ہے، جو 90 کی دہائی کے وسط میں پاکستان یا پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر چلے گئے تھے۔
ذرائع نے بتایا ،”تمام شناخت شدہ افراد کی فہرست تیار ہے جب کہ ان کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ بھی جاری کیے گئے ہیں، انٹرپول کی مدد سے انہیں گرفتار کرنے کی کوششیں جاری ہیں”۔
ذرائع نے مزید کہا، “ملی ٹینٹ، جو بھاگ کر پاکستان یا پاک زیرِ انتظام کشمیر چلے گئے ہیں، ڈوڈہ-کشتواڑ-رام بن علاقے میں نوجوانوں کو ملی ٹینسی سے متعلق سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے اکسا رہے ہیں”۔
ذرائع نے بتایا، “محمد امین بھٹ عرف خبیب سکنہ ڈوڈہ، جو اس وقت پاکستان میں مقیم ہے، کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات ملنے کے بعد پولیس کے ساتھ سیکورٹی فورسز ہائی الرٹ ہیں”۔
ان کا کہنا تھا کہ بھٹ، جو لشکر طیبہ کا ایک بنیادی رکن ہے، 1997 میں پاکستان گیا تھا اور ان پہاڑی علاقوں میں سرگرمیاں انجام دے رہا تھا اور نوجوانوں کو گمراہ کرتا تھا۔
انہوں نے مزید کہا، “جب ڈوڈہ-کشتواڑ-رام بن کو ملی ٹینسی سے پاک قرار دیا گیا تو بھٹ کو پاکستان کی طرف سے ڈوڈہ، کشتواڑ، رام بن، اودھم پور وغیرہ جیسے علاقوں میں ملی ٹینسی سے متعلق سرگرمیوں کو بحال کرنے کے لیے یہ کام سونپا گیا اور اس نے اپنے نیٹ ورک کا استعمال کرتے ہوئے نوجوانوں کو اکسانا شروع کیا۔
معلوم ہوا ہے کہ لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین کے بہت سے ملی ٹینٹ پاکستان فرار ہو گئے تھے جب 90 کی دہائی میں جموں و کشمیر میں ملی ٹینسی عروج پر تھی۔
اُنہوں نے کہا،”خبیب کے ساتھ، ایسے 36 ملی ٹینٹوں، (تمام کشتواڑ ضلع سے) کی نشاندہی کی گئی ہے جو پاکستان سے نیٹ ورک چلا رہے ہیں۔ وہ نوجوانوں میں نہ صرف بنیاد پرستی کے بیج بو رہے ہیں بلکہ انہیں ملک دشمن سرگرمیوں کے لیے اکسا رہے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ پاکستان فرار ہونے والے ملی ٹینٹوں کی جائیدادوں کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔
شناخت شدہ ملی ٹینٹوں کو بھارت لانے کے لیے گرفتار کرنے کے لیے انٹرپول کی مدد لی جائے گی۔ مزید ، جموں و کشمیر پولیس، فوج اور دیگر متعلقہ ایجنسیاں اس بات کو یقینی بنا رہی ہیں کہ ان بیلٹس میں ملی ٹینسی کی کوئی کارروائی نہ ہو اور نوجوانوں کو مختلف پروگراموں جیسے کھیلوں، ہنر مندی کے فروغ کے پروگراموں، تعلیمی اور پروموشنل تقریبات، دوروں اور اس طرح کے بہت سے منصوبوں کے ذریعے بھی کونسلنگ کی جا رہی ہے تاکہ انہیں غلط راستے اپنانے سے روکا جا سکے۔
گزشتہ سال اکتوبر میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھارت کی آزادی کے 75 ویں سال کے دوران نئی دہلی میں منعقدہ انٹرپول کی 90ویں جنرل اسمبلی کے اختتامی اجلاس میں اپنے خطاب میں کہا تھا کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور یہ بہت مناسب ہے کہ اس کا خاتمہ کیا جائے۔ 2020سے2025 کی مدت کے لیے انٹرپول کے سات عالمی پولیسنگ اہداف میں سے دہشت گردی پہلا اور سب سے اہم ہے۔
بھارت انٹرپول کے قدیم ترین ارکان میں سے ایک ہے۔ شاہ نے کہا کہ بھارت 1949 میں انٹرپول میں شامل ہوا۔
شاہ نے کہا کہ بھارت ہر قسم کی ملی ٹینسی سے لڑنے اور تکنیکی مدد اور انسانی وسائل فراہم کرنے کے لیے انٹرپول کے ساتھ کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
پاک مقیم 36 سرگرم ملی ٹینٹوں کی گرفتاری کیلئے ’انٹرپول‘ کی مدد لی جائے گی: پولیس