جموں//بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری اور کشمیر امور کے انچارج ترون چگھ نے ہفتہ کے روز کہا کہ آنجہانی واجپائی اور وزیر اعظم نریندر مودی کا کشمیر کے مسئلہ پر ایک ہی نظریہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا، “مودی نے 5اگست 2019کو دفعہ370اور 35 اےکی منسوخی کے ساتھ واجپائی کے مشن کو پورا کیا”۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے بھاجپا لیڈر ترون چگھ نے کہا کہ دفعہ 370اور 35(اے) کو منسوخ کرنا سیاما پرساد مکھرجی اور اٹل بہاری واجپائی کا خواب تھا۔ “آنجہانی سیاماپرساد مکھرجی نے آنجہانی واجپائی کے ساتھ مل کر 1950میں ایک نشان، ایک ودھان، ایک پردھان تحریک شروع کی تھی۔ دونوں نے مشن کو اس کے انجام تک پہنچانے کے لیے اپنی بھرپور کوششیں کیں، تاہم پی ایم مودی نے 5اگست2019کو دفعہ 370اور 35(A) کو منسوخ کرکے ان کا خواب پوراکر دیا”۔
بی جے پی لیڈر جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر ردعمل کا اظہار کر رہے تھے جنہوں نے کہا تھا کہ آنجہانی واجپائی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے نقطہ نظر میں بہت فرق ہے۔ عمر نے کہا تھا، “مرحوم اٹل بہاری واجپائی جی نے انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت کے کشمیر نواز عقیدہ کو اپنایا تھا۔ لیکن آج اس کے برعکس ہے۔ مجھے یقین ہے کہ برف پگھلے گی اور بہار آئے گی”۔
عمر نے کہا تھا، “ہم برف کے پگھلنے، سردیوں کے بھاگنے اور بہار آنے کا انتظار کر رہے ہیں…انشاءاللہ”۔
این سی کے نائب صدر پر تنقید کرتے ہوئے، بی جے پی لیڈر ترون چگھ نے کہا کہ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر میں بی جے پی کی آمد سے مایوسی کا اظہار کیا ہے، کیونکہ ان کی پارٹی کے شاہی دعوت خانہ کا کاروبار بند ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمر اور ان کے والد نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو ایک دوسرے سے لڑنے پر رکھا اور اس طرح انہیں ہر بنیادی حق سے محروم رکھا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ این سی قائدین نے ہمیشہ اپنے بیانات سے عوام میں بے یقینی پھیلانے کی کوشش کی۔
ترون چگ نے الزام لگایا، “این سی لیڈران لوگوں کو اپنے ذاتی فائدے کے لیے آپس میں لڑانے پر مجبور کرتے تھے اور اس کے نتیجے میں وہ مقامی آبادی کو ہر بنیادی حق سے محروم کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی مفاد پرست سیاست سے لوگوں کو غریب ترین بنا دیا تھا”۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ این سی کی تین نسلوں نے جموں و کشمیر کے ہر وسائل کو لوٹا اور اپنے خزانے کو سونے اور ہیرے سے بھر دیا، لیکن مقامی لوگوں کو بنیادی سہولیات سے بھی محروم رکھا۔
انہوں نے مزید کہا، “ان لیڈروں کو مسترد کر دیا گیا ہے کیونکہ عوام کو ان کی دوغلی باتوں کا پتہ چل گیا ہے”۔
کشمیر پر واجپائی اور مودی کا ایک ہی نظریہ:مودی نے 5اگست 2019کو واجپائی کا مشن پورا کیا:ترون چگھ