عاقب سلام
سرینگر// ایک ہفتے سے زائد عرصے تک وقفے وقفے سے ہونے والی بارش، جس نے شہر بھر میں معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کیا، کے بعد اتوار کو سرینگر میں زیادہ تر دن دھوپ کھلی رہی، جس سے شہریوں نے راحت کی سانس لی۔ دریائے جہلم، تیل بل نالہ اور دیگر آبی ذخائر میں پانی کی سطح کم ہونے لگی جبکہ شہر میں معمولاتِ زندگی بھی بتدریج بحال ہو گئے۔اگرچہ دن بھر کہیں کہیں بادل موجود رہے، تاہم شدید بارش نہ ہونے کے باعث کئی روز سے گھروں میں محصور رہنے والے لوگ باہر نکل آئے۔ بازاروں میں خریداروں کی آمد بڑھ گئی، ریسٹورنٹس اور عوامی مقامات پر رونقیں لوٹ آئیں، جبکہ خوشگوار موسم سے لطف اندوز ہونے کے لیے سیاح بلیوارڈ روڈ، ڈل گیٹ اور مغل باغات کا رخ کرتے دکھائی دیے۔
دریائے جہلم اورتیل بل نالہ میں پانی کی سطح کم ہونے سے ان علاقوں کے مکینوں کی تشویش بھی کم ہوئی، جو گزشتہ ایک ہفتے سے مسلسل بارش کے باعث خدشات کا شکار تھے۔راج باغ کے رہائشی فیضان احمد نے کہا، ’’کئی دنوں بعد پہلی مرتبہ سکون محسوس ہو رہا ہے۔ ہم خاص طور پر رات کے وقت مسلسل دریا کی سطح پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ پانی کم ہوتے دیکھ کر اطمینان ہوا، تاہم امید ہے کہ انتظامیہ بدستور چوکنا رہے گی۔‘‘آبپاشی و فلڈ کنٹرول محکمہ کے حکام نے بتایا کہ دریائے جہلم، تیل بل نالہ اور دیگر ندی نالوں میں پانی کی سطح کم ہو چکی ہے اور سیلابی انتباہ کی حد سے کافی نیچے ہے۔ایک افسر نے کہا،’’موسم بہتر ہو گیا ہے اور پانی کی سطح میں نمایاں کمی آئی ہے، تاہم ہماری ٹیمیں چوبیس گھنٹے حساس مقامات کی نگرانی کر رہی ہیں اور موسم میں کسی بھی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔‘‘اگرچہ موسم میں بہتری سے لوگوں کو راحت ملی، لیکن شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے کی مسلسل بارش نے سرینگر کے شہری بنیادی ڈھانچے کی سنگین خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے، جنہیں فوری طور پر دور کرنے کی ضرورت ہے۔متعدد مسافروں نے کہا کہ شہر کے قدیم اور جدید دونوں حصوں میں خراب سڑکیں اور ادھورے مرمتی کام بارش رکنے کے باوجود روزمرہ آمدورفت میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔گوجوارہ سے حول تک عالمگیری بازار کے راستے، عالی مسجد سے شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (اسکمز) جانے والی ڈاکٹر علی جان روڈ، نیز خانیار، شہرِ خاص اور حضرت بل کے مضافاتی علاقوں کی کئی سڑکیں گہرے گڑھوں، ناہموار سطح اور بارش کے باعث کھلے رہ جانے والے مین ہولز کی وجہ سے خطرناک بن چکی ہیں۔
خانیار کے رہائشی اور مسافر آصف احمد نے کہا، ’’بارش تو رک گئی ہے مگر مسائل جوں کے توں ہیں۔ گڑھے مزید گہرے ہو چکے ہیں اور سڑکوں کی حالت مزید خراب ہو گئی ہے۔ اگلی بارش سے پہلے انتظامیہ کو فوری طور پر مرمتی کام شروع کرنا چاہیے۔‘‘ایک موٹر سائیکل سوار نے کہا کہ گزشتہ ہفتہ گاڑی چلانے والوں کے لیے انتہائی دشوار ثابت ہوا۔انہوں نے کہا، ’’ہمیں روزانہ پانی سے بھرے گڑھوں سے گزرنا پڑتا تھا، جن کی گہرائی کا اندازہ بھی نہیں ہوتا تھا۔ آج بھی ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ٹریفک کی روانی متاثر کر رہی ہیں اور سواروں کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔‘‘ای رکشہ ڈرائیوروں نے بھی انتظامیہ سے مرمتی کام تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔شہر کے قدیم حصے میں ای رکشہ چلانے والے شاہد احمد نے کہا، ’’ناہموار اور پانی سے بھرے گڑھوں کی وجہ سے ہماری گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
اب جبکہ موسم بہتر ہو گیا ہے، انتظامیہ کو ترجیحی بنیادوں پر سڑکوں کی مرمت کرنی چاہیے تاکہ عوام کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔‘‘اتوار کا دن سڑک کنارے کاروبار کرنے والے دکانداروں کے لیے بھی خوش آئند ثابت ہوا، جنہوں نے کئی روز تک ترپال کے نیچے اپنا سامان محفوظ رکھنے کے بعد دوبارہ کاروبار شروع کیا۔لال چوک کے قریب ایک دکاندار نے کہا، ’’تقریباً ایک ہفتے تک مسلسل بارش کی وجہ سے کاروبار شدید متاثر رہا۔ آج گاہک واپس آئے اور کاروبار میں کچھ بہتری آئی۔ دعا ہے کہ موسم اب مستحکم رہے۔‘‘پیر سے اسکول دوبارہ کھلنے کے پیش نظر والدین نے امید ظاہر کی کہ خراب سڑکوں اور پانی جمع ہونے والے مقامات کی فوری مرمت کی جائے گی تاکہ طلبہ کا سفر محفوظ بنایا جا سکے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ آٹھ روزہ بارش نے دو بڑے شہری مسائل کو نمایاں کر دیا ہے: سرینگر کے نکاسی آب کے کمزور نظام اور خستہ حال سڑکوں کی ابتر حالت۔ایک مقامی رہائشی نے کہا، ’’بارش کے دوران ہنگامی اقدامات تو کیے گئے، لیکن اب توجہ مستقل حل پر مرکوز ہونی چاہیے۔ نکاسی آب کے نظام کو مضبوط بنانا اور تباہ حال سڑکوں کی بحالی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔