عظمیٰ نیوزسروس
جموں//اکنامک آفینسز ونگ ،کرائم برانچ جموں نے تفصیلی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد دو الگ الگ فراڈ مقدمات میں مجاز عدالتوں کے سامنے چارج شیٹ پیش کر دی ہے۔پہلے مقدمے میں میسرز گولڈ سکھ ٹریڈ انڈیا لمیٹڈ، جے پور سے متعلق مالی دھوکہ دہی کا معاملہ شامل ہے، جس میں ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے سرمایہ کاروں کو غیر معمولی منافع کا جھانسہ دے کر سرمایہ کاری کروائی اور بعد ازاں ان کی رقم کا غبن کیا۔یہ مقدمہ ایف آئی آر نمبر 306/2011زیر دفعات 420، 406، 120-بی آر پی سی پولیس سٹیشن گاندھی نگر، جموں میں آشیش شرما کی تحریری شکایت پر درج کیا گیا تھا۔ شکایت میں الزام لگایا گیا کہ کمپنی اور اس کے مقامی نمائندوں نے زیادہ منافع کا جھوٹا وعدہ کرکے ان سے 1,20,480روپے کی سرمایہ کاری کروائی۔بعد ازاں یہ مقدمہ تفصیلی تحقیقات کے لیے کرائم برانچ جموں کے حوالے کیا گیا۔ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ متعدد سرمایہ کاروں کو غیر معمولی منافع کا لالچ دے کر کمپنی کی مختلف اسکیموں میں مجموعی طور پر 30.29لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کروائی گئی۔ اگرچہ کمپنی راجستھان میں قائم تھی، تاہم یہ سیبی ،ریزرو بینک آف انڈیا اور رجسٹرار آف کمپنیز، جموں و کشمیر کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں تھی۔زبانی، دستاویزی اور بینک ریکارڈ پر مبنی شواہد کی بنیاد پر منویندر پرتاپ سنگھ چوہان، ببلیو شرما، مہندر کمار نروان، نیرج کانت شرما اور ونود کندل کے خلاف 13ویں ایف سی اسپیشل موبائل مجسٹریٹ، جموں کی عدالت میں چارج شیٹ پیش کی گئی ہے۔دوسرے مقدمے میں جعلی ریونیو ریکارڈ کی بنیاد پر مستقل رہائشی سرٹیفکیٹس حاصل کرنے سے متعلق دھوکہ دہی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔یہ مقدمہ ایف آئی آر نمبر 52/2016 زیر دفعات 465، 467، 468، 120-بی آر پی سی بمعہ دفعہ 5(2) پریوینشن آف کرپشن ایکٹ کرائم برانچ پولیس سٹیشن میں سورت سنگھ کی تحریری شکایت پر درج کیا گیا تھا۔شکایت میں الزام عائد کیا گیا کہ ملزمان نے محکمہ مال کے بعض اہلکاروں کے ساتھ ملی بھگت کرکے جعلی مستقل رہائشی سرٹیفکیٹس حاصل کیے، تاکہ جموں و کشمیر میں زمین خرید سکیں اور سرکاری ملازمتیں حاصل کر سکیں۔تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ سروپ سنگھ، بشمبر سنگھ، پورب سنگھ اور سورج سنگھ نے اُس وقت کے پٹواری راشپال سنگھ کے ساتھ سازباز کرتے ہوئے نقل شجرہ نسب اور نقل جمابندی جیسے جعلی ریونیو ریکارڈ استعمال کر کے فراڈ کے ذریعے پی آر سیز حاصل کیے۔فارنزک سائنس لیبارٹری کی جانچ میں بھی یہ ثابت ہوا کہ متعلقہ ریونیو دستاویزات اُس وقت کے پٹواری نے تیار کی تھیں اور وہ سرکاری ریونیو ریکارڈ کے مطابق حقیقی نہیں تھیں۔اس بنیاد پر ملزمان کے خلاف ایڈیشنل سیشن جج، اینٹی کرپشن جموں کی عدالت میں عدالتی کارروائی کے لیے چارج شیٹ پیش کر دی گئی ہے۔