عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کے روز پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی پر راجیہ سبھا انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی مدد کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی اب اردو زبان کا مسئلہ صرف عوام کی توجہ اپنی اس حمایت سے ہٹانے کے لیے اٹھا رہی ہے۔نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئےعمر عبداللہ نے الزام لگایا کہ پی ڈی پی نے راجیہ سبھا انتخابات میں بی جے پی کی حمایت کی۔
انہوں نے کہا، ’’اسی لیے وہ اردو، اردو کر رہے ہیں۔ ایک ہاتھ سے کچھ دکھا رہے ہیں اور دوسرے ہاتھ سے کچھ اور کر رہے ہیں۔ انہوں نے راجیہ سبھا میں بی جے پی کی مدد کی، وہ نہیں چاہتے کہ لوگ اس طرف توجہ دیں۔ اس لیے اردو کی بات کی جا رہی ہے۔ میں پہلے ہی واضح کر چکا ہوں کہ اردو کے بارے میں ان کے دعوؤں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ وہ کبھی اس سے باز نہیں آئیں گے۔ اندر ہی اندر وہ ان کی مدد کر رہے ہیں۔‘‘یہ بیان انہوں نے اس وقت دیا جب ان سے آر ٹی آئی درخواست کے ذریعے راجیہ سبھا انتخابات سے متعلق سامنے آنے والی حالیہ تفصیلات پر سوال کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ماضی کے تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ ایگزٹ پول اکثر اصل نتائج کی عکاسی نہیں کرتے۔انہوں نے کہا، ’’جب مغربی بنگال میں انتخابات ہوئے تھے، زیادہ تر ایگزٹ پول بی جے پی کے حق میں تھے، لیکن نتیجہ کیا نکلا؟ اب زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا، پیر تک نتائج سامنے آ جائیں گے اور یہ ایگزٹ پول ایک بار پھر غلط ثابت ہوں گے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ کم از کم ایک پولسٹر نے اپنے نتائج جاری ہی نہیں کیے کیونکہ اندازے ان کی مرضی کے مطابق نہیں تھے۔
اردو زبان سے متعلق تنازع پر وزیر اعلیٰ نے کسی بھی فیصلے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے صرف ایک تجویز پر عوامی رائے طلب کی ہے۔انہوں نے کہا، ’’عوامی تبصرے طلب کرنے اور حتمی فیصلہ لینے میں واضح فرق ہے۔ تبدیلیوں کی تجویز والی فائل ابھی بھی میری میز پر موجود ہے اور میں نے اس کی منظوری نہیں دی۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’میں جھوٹ پھیلانے والوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ کوئی ایسا حکم نامہ دکھائیں جس میں اردو کو ختم کیا گیا ہو۔‘‘
عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کے ذریعے انتخابی دھاندلی پر یقین نہیں رکھتے، تاہم انہوں نے ووٹر لسٹوں میں تبدیلی کے ذریعے مبینہ گڑبڑی پر تشویش ظاہر کی۔انہوں نے کہا، ’’آج مسئلہ ای وی ایم نہیں ہے۔ اصل تشویش ووٹر فہرستوںسے ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ جمہوریت کے لیے ایک سنگین چیلنج ہوگا۔‘‘
مہنگائی کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ پہلے ہی روزمرہ زندگی اور ٹرانسپورٹ کرایوں کو متاثر کر رہا ہے۔انہوں نے کہا، ’’جب تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو باقی سب چیزیں بھی مہنگی ہو جاتی ہیں۔ لوگ پہلے ہی غیر رسمی طور پر زیادہ کرایہ ادا کر رہے تھے، اب کرایوں میں باضابطہ اضافہ ناگزیر ہو گیا ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ جاری عالمی تنازعات مہنگائی کی ایک بڑی وجہ ہیں۔انہوں نے کہا، ’’یہ جنگ شروع ہی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اگر عالمی کشیدگی کم ہو جائے تو تیل کی قیمتیں نیچے آئیں گی اور لوگوں کو راحت ملے گی۔‘‘