نئی دہلی// سلامتی کونسل میں اصلاحات سے متعلق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان کی جانب سے جموں و کشمیر کا مسئلہ اٹھانے کے بعد بھارت نے پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد کی جھوٹی کوششوں اور کثیرالجہتی فورمز کے تقدس کو غلط استعمال کرنے کی بری عادت بین الاقوامی سطح پر قابل مذمت ہے۔
بتا دیں کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کے معاملے پر جمعرات کو جنرل اسمبلی کا ایک مکمل اجلاس ہوا جس کے دوران پاکستان نے ایک بار پھر جموں و کشمیر کا مسئلہ اٹھایا۔
اسی دوران اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل مشن میں کونسلر پراتیک ماتھر نے کہا، ” جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کے “انتہائی اہم” موضوع پر بات کرنے کے لیے یو این جی اے کا اجلاس ہو رہا ہے، پاکستان کے نمائندے نے ایک بار پھر جموں و کشمیر کا “غیر ضروری حوالہ” دیا ہے”۔
اُنہوں نے کہا کہ”جموں و کشمیر،بھارت کا اٹوٹ اور ناقابل تنسیخ حصہ ہے، قطع نظر اس کے کہ پاکستان کا نمائندہ کیا مانتا ہے یا خواہش کرتا ہے۔ پاکستان کی جھوٹی کوششیں اور کثیرالجہتی فورمز کے تقدس کو پامال کرنے کی بری عادت ہماری اجتماعی توہین ہے”۔
اس سے قبل، اقوام متحدہ کے اجلاس میں بھارت کی مستقل نمائندہ روچیرا کمبوج نے خطاب کرتے ہوئے برازیل، جرمنی، بھارت اور جاپان کے G4 ممالک کی جانب سے ایک بیان دیا تھا۔اور جنرل اسمبلی کے اجلاسو میں مسئلہ کشمیر کو اٹھانے پر پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
یو این جی اے میں پاکستان نے پھر اٹھایا مسئلہ کشمیر، بھارت نے بھی دیا جواب