عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر سے امسال کُل 4,704 عازمینِ حج روانہ ہوں گے، جن میں سے اکثریت سرینگر امبارکیشن پوائنٹ کے ذریعے سفر کرے گی۔ایگزیکٹو آفیسر حج کمیٹی، ڈاکٹر شجاعت احمد کے مطابق 3,990 عازمین، جن میں لداخ کے 323 افراد بھی شامل ہیں، سرینگر سے روانہ ہوں گے، جبکہ تقریباً 1,000 عازمین دہلی امبارکیشن اور 50 ممبئی کے ذریعے سفر کریں گے۔
انہوں نےبتایا کہ سرینگر سے حج پروازیں 18 مئی سے شروع ہوں گی اور تقریباً 10 سے 15 دن تک جاری رہیں گی، جبکہ آخری پرواز 28 مئی کے آس پاس متوقع ہے، تاہم شیڈول میں معمولی تبدیلی ممکن ہے۔
ڈاکٹر شجاعت احمد نے کہا کہ اس سال سعودی عرب کی جانب سے نئی ہدایات متعارف کرائی گئی ہیں، جن کے تحت سخت طبی جانچ کی جا رہی ہے اور سنگین بیماریوں میں مبتلا بعض درخواست دہندگان کو نااہل قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عزیزیہ جیسے مقامات پر عازمین کے لیے خود کھانا پکانے کی سہولت بھی ختم کر دی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عازمین کو نگرانی کے لیے سم پر مبنی ڈیٹا سے لیس اسمارٹ واچز فراہم کی جائیں گی، جو پہلے استعمال ہونے والے کلائی بینڈز کی جگہ لیں گی۔
سرینگر ایئرپورٹ پر جاری مرمت کے کام کی وجہ سے پروازوں کی گنجائش کم ہو گئی ہے، جس کے باعث شیڈول میں تبدیلی اور دہلی میں لازمی ایندھن بھرنے کے اسٹاپ شامل کیے گئے ہیں۔ 189 مسافروں کی گنجائش والے طیارے اب تقریباً 145 مسافروں کے ساتھ چلیں گے جبکہ سامان کی حد 40 کلوگرام سے کم کر کے 25 کلوگرام کر دی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جموں ڈویژن اور لداخ سے آنے والے عازمین کو روانگی سے قبل حج ہاؤس سرینگر میں قیام کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ امیگریشن کی تمام کارروائیاں سرینگر میں مکمل کی جائیں گی، جس کے بعد پروازیں دہلی میں ایندھن بھرنے کے وقفے کے ساتھ مدینہ روانہ ہوں گی۔
جموں و کشمیر سے 4700 سے زائد عازمینِ حج کی روانگی، پروازیں 18 مئی سے شروع ہوں گی