عظمیٰ ویب ڈیسک
لیہہ/مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعہ کو لداخ میں کہا کہ صرف امن، ہمدردی اور بقائے باہمی ہی بے چینی اور تنازعات کا مؤثر حل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوتما بدھا کے مقدس تبرکات 75 برس بعد لداخ واپس لائے گئے ہیں، جو ایک تاریخی اور روحانی لمحہ ہے۔
لیہہ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے شاہ نے کہا کہ مقدس تبرکات کی لداخ میں موجودگی نے اس سال بدھا پورینما کو مزید اہم بنا دیا ہے، جس سے لداخ، کرگل اور دیگر علاقوں کے لوگ ان کی روحانی اہمیت سے مستفید ہو سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دہائیوں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے باعث اب عوام کی بڑی تعداد ان تبرکات کی زیارت کر سکتی ہے، جبکہ 75 سال قبل محدود رابطہ سڑکوں اور سہولیات کی کمی کے باعث عوامی شرکت محدود تھی۔
امت شاہ نے کہا کہ ہزاروں برسوں سے ہندوستانی تہذیب دنیا کو امن اور بقائے باہمی کا پیغام دیتی آئی ہے، اور یہ پیغام لداخ اور کرگل جیسے متنوع خطوں میں مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنازعات اور بے چینی کے ماحول میں امن اور ہمدردی ہی واحد قابل عمل راستہ ہے۔
بدھ مت کی علاقائی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ مذہب مختلف ادوار میں لداخ پہنچا، جہاں یہ پروان چڑھا اور بعد میں دیگر علاقوں تک پھیلا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر ایک زمانے میں بدھ متی تعلیمات، مہایان فلسفے اور فن کا بڑا مرکز تھا اور لداخ کے لیے بدھ تعلیمات تک رسائی کا دروازہ بھی تھا۔
انہوں نے کہا کہ شہنشاہ اشوکا کے نمائندوں نے کشمیر-گندھارا راستے سے بدھ مت کی ابتدائی بنیادیں رکھیں، جن میں لداخ بھی شامل تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پہلی سے تیسری صدی عیسوی کے درمیان کشان دور میں مہایان بدھ مت کو نئی وسعت ملی اور یہ لداخ تک پھیل گیا۔
انہوں نے کہا کہ قدیم اسٹوپے، چٹانوں پر تراشے گئے بدھ مجسمے اور خروشتی و براہمی رسم الخط میں تحریریں اس دور میں بدھ مت کے فروغ کا ثبوت ہیں۔
امت شاہ نے کہا کہ کشمیر، لیہہ، یارقند، ختن اور تبت کو ملانے والی شاہراہِ ریشم نے صرف تجارت ہی نہیں بلکہ خیالات، مخطوطات اور فنون کے تبادلے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ مقدس تبرکات کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ لداخ نے بدھ تعلیمات کے تحفظ اور فروغ میں تاریخی کردار ادا کیا ہے، اور یہ ہندوستان کی اس دیرینہ تہذیبی روایت کی عکاسی کرتا ہے جو امن، ہمدردی اور بقائے باہمی پر قائم ہے۔
امن اور ہمدردی ہی بے چینی کا حل ہیں: امت شاہ