عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے خلاف وادی کشمیر میں پھوٹ پڑنے والے اچانک احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر انتظامیہ نے پیر کے روز موبائل انٹرنیٹ اسپیڈ کو محدود کر دیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ اقدام امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور افواہوں کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا۔
اتوار کو وادی کے مختلف حصوں—بالخصوص شیعہ اکثریتی علاقوں—میں بڑے پیمانے پر احتجاجی جلوسوں، ماتمی ریلیوں اور دھرنوں کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے مزید اجتماعات یا افواہیں پھیل سکتی ہیں، جس سے حالات بگڑنے کا امکان تھا۔ اسی تناظر میں موبائل ڈیٹا کی اسپیڈ کم کر کے صرف بنیادی سروسز تک محدود کر دیا گیا۔
انتظامیہ نے بتایا کہ صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید فیصلے بھی لیے جا سکتے ہیں۔ ایک سینئر افسر نے بتایا:’یہ اقدام مکمل طور پر احتیاطی ہے۔ مقصد صرف یہ ہے کہ کوئی اشتعال انگیز مواد یا غلط معلومات عام لوگوں تک فوری نہ پہنچ سکے، تاکہ ماحول پرسکون رہے۔‘
وادی کشمیر میں موبائل انٹرنیٹ اسپیڈ محدود