عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/بھارتی فوج کے سربراہ جنرل اوپیندر دویدی نے منگل کے روز کہا کہ جموں و کشمیر میں ملی ٹینٹوں کی بھرتی تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے اور مقامی ملی ٹینٹوں کی تعداد اب سنگل ڈیجٹ میں ہے، جو کہ یونین ٹیریٹری میں مثبت تبدیلی کی واضح علامت ہے۔سال 2026 کی اپنی پہلی پریس کانفرنس کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے جنرل دویدی نے کہا کہ گزشتہ سال 10 مئی کے بعد مغربی سرحد اور جموں و کشمیر میں صورتحال حساس ضرور ہے، مگر مکمل طور پر قابو میں ہے۔انہوں نے کہا کہ سال 2025 کے دوران 31 ملی ٹینٹوں کو مارگرایا گیا، جن میں سے 65 فیصد کا تعلق پاکستان سے تھا۔ ان میں پہلگام حملے کے تین اہم ملزم بھی شامل تھے، جنہیں آپریشن مہادیو کے دوران مار گرایا گیا۔
دویدی نے کہافعال مقامی ملی ٹینٹوں کی تعداد اب سنگل ڈیجٹ میں ہے۔ ملی ٹینٹوں کی نئی بھرتی تقریباً ختم ہو چکی ہے اور 2025 میں صرف دو افراد کی بھرتی ہوئی۔ جموں و کشمیر میں مثبت تبدیلی کے واضح اشارے مضبوط ترقیاتی سرگرمیاں، سیاحت کی بحالی اور پرامن امرناتھ یاترا ہیں، جس میں چار لاکھ سے زائد یاتریوں نے شرکت کی، جو گزشتہ پانچ سالہ اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔ ملی ٹینسی سے سیاحت کی جانب سفر بتدریج حقیقت بن رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن سندور بدستور جاری ہے اور کسی بھی آئندہ مہم جوئی کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ انھوں نے کہا میں قومی سطح پر تمام شراکت داروں، بشمول سی اے پی ایفز، انٹیلی جنس ایجنسیاں، شہری ادارے، ریاستی انتظامیہ اور دیگر وزارتوں کے فعال کردار کا اعتراف کرتا ہوں۔جنرل دویدی نے کہا کہ آپریشن سندور واضح سیاسی ہدایات اور مکمل آزادی کے تحت عمل یا ردعمل کی اجازت کے ساتھ تینوں افواج کے باہمی اشتراک کی بہترین مثال ہے۔انہوں نے بتایا کہ فوج نے نو میں سے سات اہداف کو کامیابی سے تباہ کیا اور وہ زمینی کارروائی کے لیے بھی مکمل طور پر تیار تھی۔
جموں و کشمیر میں مقامی ملی ٹینٹوں کی بھرتی تقریباً ختم ہو چکی ہے : جنرل اوپیندرا دویدی