عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/نئی دہلی/وزارتِ داخلہ ہند نے ہفتہ کے روز اعلان کیا ہے کہ معروف سماجی کارکن سونم وانگچک کی نیشنل سکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت نظر بندی کو فوری طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ لداخ میں امن، استحکام اور باہمی اعتماد کے ماحول کو فروغ دینے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ تمام فریقین کے ساتھ بامعنی اور تعمیری بات چیت ممکن ہو سکے۔جاری ایک بیان میں وزارتِ داخلہ نے کہا کہ تمام پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد حکومت نے سونم وانگچک کی نظر بندی فوری طور پر منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور لداخ کے لیے تمام ضروری حفاظتی اقدامات فراہم کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ 24 ستمبر 2025 کو پرامن قصبہ لیہہمیں پیدا ہونے والی سنگین امن و قانون کی صورتحال کے پس منظر میں سونم وانگچک کو 26 ستمبر 2025 کو ضلع مجسٹریٹ لیہہکے حکم پر نیشنل سکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت نظر بند کیا گیا تھا تاکہ عوامی نظم و ضبط کو برقرار رکھا جا سکے۔ بیان کے مطابق وہ اس ایکٹ کے تحت مقررہ مدت کی تقریباً نصف مدت گزار چکے ہیں۔وزارتِ داخلہ نے مزید کہا کہ حکومت لداخ کے مختلف اسٹیک ہولڈرز اور کمیونٹی لیڈروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ خطے کے عوام کی خواہشات اور خدشات کو دور کیا جا سکے۔
بیان میں کہا گیا کہ حالیہ عرصے میں بند اور احتجاج کے ماحول نے معاشرے کے پرامن کردار کو متاثر کیا ہے اور اس سے طلبہ، ملازمت کے متلاشی نوجوانوں، کاروباری طبقے، ٹور آپریٹرز، سیاحوں اور مجموعی معیشت کو نقصان پہنچا ہے۔
وزارت نے کہا کہ حکومت لداخ میں امن، استحکام اور باہمی اعتماد کے ماحول کو فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہے تاکہ تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ تعمیری اور بامعنی مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکے۔بیان کے مطابق حکومت کو امید ہے کہ خطے سے متعلق مسائل تعمیری مشاورت اور بات چیت کے ذریعے حل کیے جائیں گے، جس میں ہائی پاورڈ کمیٹی کا طریقہ کار اور دیگر مناسب پلیٹ فارمز بھی شامل ہوں گے۔
مرکزی حکومت کا بڑا فیصلہ، سونم وانگچک کی این ایس اے حراست ختم