عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا آئندہ اجلاس ستمبر کے اواخر میں سری نگر میں منعقد ہونے کا امکان ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ مرکزی زیر انتظام علاقے کی کابینہ کرے گی۔ ذرائع کے مطابق آئینی تقاضے کے تحت اسمبلی کا اجلاس 4 اکتوبرسے قبل طلب کرنا لازمی ہے کیونکہ رواں سال بجٹ اجلاس 4 اپریل کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیا گیا تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں ہر سال عموماً دو اسمبلی اجلاس منعقد ہوتے ہیں، جن میں فروری-مارچ میں جموں میں بجٹ اجلاس جبکہ ستمبر-اکتوبرمیں سری نگر میں مختصر اجلاس شامل ہوتا ہے۔ اس سال بجٹ اجلاس 22 نشستوں پر مشتمل تھا، جبکہ سری نگر اجلاس میں عموماً 6 سے 7 نشستیں ہوتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق اسمبلی اسپیکر عبدالرحیم راتھر قانون ساز اسمبلی کو جلد از جلد مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کے خواہاں ہیں، جس کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔اس مقصد کے لیے حکومت ہند کی نیشنل انفارمیٹکس سینٹر سروسز انکارپوریٹڈ (NICSI) کو منصوبے پر عمل درآمد کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ادارے نے ٹینڈر جاری کر دیا ہے اور مختلف کمپنیوں کی جانب سے موصول ہونے والے سوالات کے جوابات دیے جا رہے ہیں۔ وینڈر کے انتخاب کے بعد منصوبے پر عملی کام شروع ہوگا۔
ذرائع کے مطابق کوشش کی جا رہی ہے کہ اسمبلی کا آئندہ ستمبر اجلاس ہی مکمل طور پر ڈیجیٹل انداز میں منعقد ہو، تاہم اگر منصوبہ بروقت مکمل نہ ہو سکا تو اگلے سال جموں میں ہونے والے بجٹ اجلاس سے اس کا باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا۔یاد رہے کہ رواں سال بجٹ اجلاس کے دوران ڈیجیٹل اسمبلی کا کامیاب آزمائشی مظاہرہ (ڈرائی رن) کیا گیا تھا، جس کے بعد منصوبہ اب عملی نفاذ کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
منصوبے کے تحت اسمبلی کے 95 اراکین کے لیے ٹیبلیٹس خریدی جائیں گی، جو ایوان کی مجموعی نشستوں کے برابر ہیں۔ اس وقت اسمبلی میں وزیراعلیٰ اور پانچ وزراء سمیت 90 منتخب اراکین موجود ہیں، جبکہ پانچ نشستیں نامزد اراکین کے لیے مختص ہیں جن پر ابھی تک تقرری عمل میں نہیں آئی۔اس کے علاوہ سری نگر اور جموں میں اسمبلی ہالز اور بعض اسمبلی دفاتر میں نصب کرنے کے لیے مجموعی طور پر 230 ٹیبلیٹس بھی فراہم کی جائیں گی۔
ڈیجیٹل نظام نافذ ہونے کے بعد اراکین اسمبلی اپنے سوالات، قراردادیں اور نجی بل آن لائن جمع کرا سکیں گے، ان کے جوابات حاصل کریں گے اور ان کی پیش رفت بھی آن لائن دیکھ سکیں گے۔ نظام میں سوالات کے لیے 150 الفاظ کی حد مقرر ہوگی، جبکہ اس سے زیادہ الفاظ پر مشتمل سوالات قواعد کے مطابق مسترد کیے جا سکتے ہیں، اگرچہ اس حوالے سے حتمی اختیار اسپیکر کے پاس ہوگا۔
واضح رہے کہ نیشنل ای ودھان ایپلیکیشن (NeVA)حکومت ہند کی وزارت پارلیمانی امور کا ایک اہم منصوبہ ہے، جس کا مقصد پارلیمنٹ اور تمام قانون ساز اسمبلیوں کو مکمل طور پر کاغذ سے پاک (Paperless) اور ڈیجیٹل بنانا ہے۔