عظمیٰ ویب ڈیسک
ریاسی /لیفٹیننٹ گورنرمنوج نے ریاسی میں ’’نشہ مکت جموں و کشمیر‘‘مہم کا آغاز کرتے ہوئے معاشرے کے تمام طبقات، اداروں اور افراد سے منشیات کے خلاف متحد ہونے کی اپیل کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ منشیات کا ناسور معاشرے کی بنیادوں کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہا ہے اور اس کے خاتمے کے لیے ایک وسیع عوامی تحریک ناگزیر ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ گزشتہ 12دنوں کے دوران پورے جموں و کشمیر میں منشیات کے خلاف ایک مضبوط اجتماعی قوت ابھری ہے اور عوام اس خطے کو منشیات سے پاک بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 11 سے 22 اپریل کے درمیان جموں صوبہ میں بڑی تعداد میں مقدمات درج کیے گئے اور کئی منشیات فروش گرفتار کیے گئے۔ اس دوران تقریباً 3 کروڑ روپے مالیت کی منشیات ضبط کی گئیں جبکہ ایک کروڑ روپے کی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کی گئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات فروشوں کی جائیدادیں مسمار کی گئی ہیں، 187 ڈرائیونگ لائسنس اور 4 گاڑیوں کی رجسٹریشن منسوخ کی گئی ہے، جبکہ 48 منشیات فروشوں کے خلاف مالیاتی تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ میڈیکل اسٹورز کی جانچ کے دوران 15 لائسنس بھی منسوخ کیے گئے اور منشیات کے عادی افراد کو بحالی مراکز بھیجا گیا جہاں انہیں مشاورت فراہم کی جا رہی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ 11 اپریل سے اب تک جموں صوبہ کے مختلف اضلاع میں 1,947 خواتین کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماؤں اور بہنوں کے تعاون سے اس سماجی برائی کا خاتمہ ممکن ہے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک ایسی تاریخی تحریک کی ضرورت ہے جو گھروں، اسکولوں، محلوں اور برادریوں سے اٹھے اور دیہات و قصبوں میں کھلے اور ایماندارانہ مکالمے سے شروع ہو۔ انہوں نے کہا کہ مائیں اور بہنیں معاشرے کی اخلاقی بنیاد ہیں اور انہی کی مدد سے اس جنگ میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ دو درجن سے زائد منشیات اسمگلروں کی نشاندہی کی جا چکی ہے اور انہیں جلد گرفتار کیا جائے گا، جبکہ ہزاروں مشتبہ افراد نگرانی میں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعلیمی اداروں اور حساس مقامات کے گرد سیکورٹی مزید سخت کی گئی ہے اور نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ منشیات فروش اور دہشت گرد ایک دوسرے کے معاون ہوتے ہیں، اس لیے ان کے خلاف کارروائی بھی اسی شدت سے کی جانی چاہیے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ منشیات کی ترسیل کے تمام راستوں پر نظر رکھی جائے اور ان کے مالیاتی نیٹ ورکس کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی سے جموں و کشمیر میں منشیات کے مسئلے پر خاموشی طاری تھی، اور یہ مہم اسی خاموشی کو توڑنے کے لیے شروع کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات ہمارے معاشرے کے دل پر ایک زخم ہیں اور اس کے علاج کے لیے اجتماعی قوت کو بروئے کار لانا ہوگا۔انہوں نے این جی اوز، سماجی کارکنوں اور مذہبی رہنماؤں سے بھی اپیل کی کہ وہ اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور معاشرے میں امید اور اصلاح کا پیغام عام کریں۔
منشیات سے پاک معاشرے کیلئے اجتماعی جدوجہد ضروری: ایل جی