عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/بدھ کے روز قانون ساز اسمبلی میں مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکانِ اسمبلی نے سوالیہ وقفہ کے دوران بیوروکریٹس کی عدم موجودگی پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔سوالیہ وقفہ اختتام کے قریب تھا کہ این سی کے رکن اسمبلی نذیر گُریز ی نے الزام عائد کیا کہ بیوروکریٹس ایوان کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں۔افسران کی گیلری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’آپ گیلری کی طرف دیکھیں، اس ایوان کو ہلکے میں لیا جا رہا ہے۔ میں گزشتہ 22 برسوں سے اس ایوان کا رکن ہوں۔ پہلے یہ گیلری بھری ہوتی تھی۔ چیف سیکریٹری سوالیہ وقفہ کے دوران موجود رہتے تھے اور کمشنر سیکریٹریز بھی حاضر ہوتے تھے۔ ایسا لگتا ہے جیسے وہ سمجھتے ہیں کہ یہاں فارغ لوگ بیٹھے ہیں۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ غیر حاضر بیوروکریٹس کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہیں ایوان میں آنا چاہیے۔ کیا وہ خود کو وزیر اعلیٰ اور ایوان سے بالاتر سمجھتے ہیں؟ وہ سرکاری ملازم ہیں جبکہ ہم عوام کے نمائندے ہیں۔گُریز ی کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے بی جے پی کے تمام ارکان احتجاجاً کھڑے ہو گئے، جس کے بعد این سی، پی ڈی پی، کانگریس، پی سی اور آزاد ارکان بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔
اس موقع پر اسپیکر عبدالرحیم رادر نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ جن محکموں کے سوالات زیر بحث ہوں، ان کے اعلیٰ افسران کا ایوان میں موجود ہونا ضروری ہے۔ تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ ہم پورے سیکریٹریٹ کو ایوان میں نہیں بٹھا سکتے کیونکہ افسران کی گیلری میں اتنی جگہ نہیں ہے۔بی جے پی کے رکن شام لال شرما نے اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے کہا کہ قواعد کے مطابق متعلقہ محکمے کے انتظامی سیکریٹری کی موجودگی لازمی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ جس محکمے کے افسران گیلری میں موجود نہ ہوں، اس کا کام ملتوی کیا جانا چاہیے۔ان کے ساتھی رکن پون گپتا نے بھی بیوروکریٹس کی عدم موجودگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاانتظامیہ مقننہ کے سامنے جوابدہ ہے، پھر وہ ایوان میں کیوں نہیں آ رہے؟ وہ غیر حاضر کیوں ہیں؟
اسمبلی میں بیوروکریٹس کی عدم موجودگی پر ارکانِ اسمبلی کا احتجاج