عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (جے کے ایس اے) نے وزیرِ داخلہ امت شاہ کو ایک مکتوب ارسال کرتے ہوئے ملک کے مختلف حصوں میں کشمیری طلبہ اور شال فروشوں کے خلاف مبینہ طور پر جاری دھمکیوں، ہراسانی اور تشدد کے تشویشناک واقعات پر فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ایک برس کے دوران ایسے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جبکہ ہماچل پردیش کی صورتحال کو خاص طور پر انتہائی سنگین اورتشویشناک دکھائی دے رہی ہیں ۔
ایسوسی ایشن نے اپنے خط میں لکھا کہ وہ ان واقعات کی قریبی نگرانی کر رہی ہے اور متعدد ریاستوں میں متعلقہ انتظامیہ سے مسلسل رابطہ رکھا گیا، جس کے نتیجے میں بعض مقامات پر بروقت کارروائی سے کشمیری طلبہ اور تاجروں کی حفاظت یقینی بنی اور شکایات کا ازالہ ہوا۔ تاہم ہماچل پردیش میں حالات نہایت پریشان کن ہیں، جہاں بارہا نمائندگیوں، یقین دہانیوں اور مختلف سطحوں پر مداخلت کے باوجود ایسے واقعات تشویشناک حد تک بار بار پیش آ رہے ہیں اور زمینی سطح پر مؤثر کارروائی نظر نہیں آتی۔
خط میں بتایا گیا کہ رواں برس ہی ہماچل پردیش میں کشمیری شال فروشوں پر کم از کم 18 حملوں، دھمکیوں اور ہراسانی کے واقعات سامنے آئے۔ اس کے باوجود کئی معاملات میں نہ تو بروقت ایف آئی آر درج ہوئیں، نہ ہی نمایاں گرفتاریاں یا اقدامات دیکھنے میں آئےاور نہ ہی متاثرہ برادریوں کی سلامتی اور اعتماد بحال کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش کی گئی۔ یہ صورتِ حال ریاست میں ایماندارانہ اور روایتی طریقے سے روزی کمانے والے ہزاروں کشمیری شال فروشوں کی سلامتی، وقار اور معاشی تحفظ میں ناکامی کی عکاس ہے۔ مسلسل عدم کارروائی نے شرپسند عناصر کو مزید حوصلہ دیا ہے اور خوف کی فضا پیدا کر دی ہے، جہاں کمزور تاجر قانون کی حفاظت کے بجائے ہجوم کے رحم و کرم پر ہیں۔
جے کے ایس اے کے مطابق متعدد کشمیری طلبہ اور تاجر اس وقت شدید خوف اور نفسیاتی دباؤ میں زندگی گزار رہے ہیں۔ تشویشناک طور پر کئی افراد کو ریاست چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا، جس کے نتیجے میں تعلیم متاثر ہوئی، روزگار کا نقصان ہوا اور وقار مجروح ہوا۔ خط میں کہا گیا کہ یہ محض انتظامی غفلت نہیں بلکہ کشمیری شہریوں کے تحفظ کے لیے سیاسی عزم اور اخلاقی ذمہ داری کی سنگین کمی کی عکاسی ہے، حالانکہ ہم آہنگی اور انصاف کی بارہا یقین دہانیاں دی جاتی رہی ہیں۔
خط میں یہ بھی کہا گیا کہ ان واقعات کے اثرات ہماچل پردیش تک محدود نہیں رہتے بلکہ کشمیر وادی میں لوگ نہایت تشویش کے ساتھ دیکھتے ہیں کہ ملک کے دیگر حصوں میں کشمیری شہریوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے۔ بے گناہ کشمیریوں کو نشانہ بنائے جانے، دھمکائے جانے یا بے سزا مجرموں کے باعث ان کے نقل مکانی پر مجبور ہونے سے اعتماد کو شدید نقصان پہنچتا ہے اور طویل مدتی قومی مفادات کو متاثر کرتا ہے۔جے کے ایس اے نے واضح کیا کہ کشمیری ملک میں کسی طور باہر کے لوگ نہیں ہیں بلکہ وہ برابر کے شہری اور اس ملک کا لازمی حصہ ہیں، جنہیں دیگر تمام شہریوں کی طرح حقوق، آزادی، وقار اور آئینی تحفظ حاصل ہے۔ بے گناہ کشمیری تاجروں کو نشانہ بنانا اور شہروں سے بے دخل کرنا بیگانگی اور عدم اعتماد کو مزید بڑھاتا ہے، جو دشمن طاقتوں کے مقاصد کو تقویت دیتا ہے۔ ایسے حالات کو بغیر روک ٹوک جاری رہنے دینا قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
خط کے مطابق تشدد، دھمکیوں اور فرقہ وارانہ نفرت کو معمول نہیں بننے دیا جا سکتا۔ قانون کی بالادستی بلا خوف و امتیاز قائم رہنی چاہیے، کیونکہ بھارت کی اصل طاقت اس کے تنوع میں اتحاد میں مضمر ہے، اور اس روح پر ہر حملہ دراصل قوم پر حملہ ہے۔آخر میں جے کے ایس اے نے وزیرِ داخلہ سے درخواست کی کہ معاملے کی سنگینی کے پیش نظر ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سے گزشتہ ایک برس کے دوران پیش آنے والے تمام واقعات پر تفصیلی رپورٹ طلب کی جائے، جس میں ایف آئی آرز، گرفتاریاں، قانونی کارروائیاں اور حفاظتی اقدامات کی صورتحال شامل ہو۔ ساتھ ہی فوری، وقت مقررہ کے اندر کارروائی، قانون کے سخت نفاذ، کوتاہیوں پر جوابدہی طے کرنے اور کشمیری طلبہ و تاجروں کے تحفظ کے لیے مؤثر سیکورٹی اور نگرانی کے نظام نافذ کرنے کی ہدایات دی جائیں۔خط کے اختتام پر کہا گیا کہ بروقت اور فیصلہ کن مداخلت متاثرہ خاندانوں کا اعتماد بحال کرنے، مزید بیگانگی روکنے اور ہر شہری کے آئینی حقوق، وقار اور سلامتی کے تحفظ کے لیے مرکزی حکومت کے غیر متزلزل عزم کو تقویت دینے میں اہم کردار ادا کرے گی۔