عظمیٰ ویب ڈیسک
اننت ناگ /پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہمفتی نے بدھ کے روز وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ عوامی مسائل، بالخصوص اراضی کے حصول اور باغبانوں کے خدشات جیسے اہم معاملات پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔اپنے والد اور سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کی برسی کے موقع پر بیجبہاڑا میں خطاب کرتے ہوئے، محبوبہ مفتی نے کہا کہ عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے عمر عبداللہ صرف پی ڈی پی کے خلاف بات کرنے میں مصروف ہیں۔انہوں نے کہا، ’’ان کے پاس مکمل اکثریت ہے اور ان کی جماعت کے ارکان راجیہ سبھا اور لوک سبھا دونوں میں موجود ہیں، اس کے باوجود وہ غریبوں کو متاثر کرنے والے مسائل پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔‘‘
محبوبہمفتی نے دعویٰ کیا کہ عمر عبداللہ عام کشمیریوں کی زمین اور باغات کی جذباتی اور معاشی اہمیت کو نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہا، ’’وہ نہیں جانتے کہ ایک باغ یا زمین کا ٹکڑا ایک غریب خاندان کے لیے کیا معنی رکھتا ہے،اسی لیے وہ ان مسائل پر خاموش ہیں اور ان لوگوں کی آواز نہیں بنتے جن کا روزگار داؤ پر لگا ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں بے روزگاری اور عوامی بیگانگی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ پلوامہ کے ایک ڈاکٹر نے خودکشی کی اور دہلی میں چند بے گناہ افراد مارے گئے، مگر عمر عبداللہ کی حکومت ان سنگین مسائل پر خاموش ہے۔
محبوبہ مفتی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کشمیر میں ریلوے اور دیگر بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے زمین حاصل کرنے سے پہلے مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کو ترجیح دی جائے، کیونکہ ترقی عوام کے روزگار اور وقار کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ہزاروں خاندانوں، خصوصاً باغبانوں اور چھوٹے کسانوں کے لیے زمین ہی واحد ذریعۂ معاش ہے، اور زمین لینے کے کسی بھی فیصلے کے ساتھ متاثرہ مقامی لوگوں کے لیے ملازمتوں اور بحالی کی ٹھوس یقین دہانیاں ہونی چاہئیں۔انہوں نے کہا، ’’ریلوے یا کسی اور منصوبے کے لیے ایک انچ زمین لینے سے پہلے حکومت کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ تمام بے روزگار نوجوانوں اور ہر متاثرہ خاندان کو روزگار ملے۔ یہاں زمین محض جائیداد نہیں بلکہ غریب خاندانوں کی روزی روٹی، شناخت اور بقا ہے۔‘‘
محبوبہ مفتی کی وزیر اعلیٰ پر کڑی تنقید | کہا عمر عبداللہ عوامی مسائل کا حل کرنے کے بجائے پی ڈی پی کی تنقید میں مصروف ہیں