عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کے روز کہا کہ ملک کے دیگر حصوں، بشمول ہماچل پردیش، میں کشمیریوں پر ہونے والے حملے ’’ناقابلِ قبول‘‘ہیں اور انہیں فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے جہاں بھی ضرورت پڑی، ان کی حکومت مداخلت کرے گی۔سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایک طرف جموں و کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ حصہ قرار دیا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف کشمیر سے تعلق رکھنے والے افراد کو ملک کے مختلف حصوں میں خوف کے سائے میں زندگی گزارنی پڑتی ہے، جو ایک واضح تضاد ہے۔انھوں نے کہا اگر جموں کشمیر ملک کا اٹوٹ حصہ ہے تو کشمیریوں ملک کی دیگر ریاستوں میں غیر محفوظ نہیں ہونے چاہیے۔
عمر عبداللہ نے کہا،یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے، جبکہ کشمیر کے لوگ ملک کے دیگر حصوں میں اپنی جان کے خوف میں مبتلا ہوں۔حالیہ دنوں میں پیش آنے والے متعدد حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے، جن میں ہماچل پردیش کا ایک واقعہ بھی شامل ہے، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر حکومت یونین ٹیریٹری سے باہر رہنے یا سفر کرنے والے کشمیریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔
انہوں نے کہا،میری حکومت جہاں بھی ضرورت محسوس ہوگی، مداخلت کرے گی اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی کہ ایسے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر مرکزی وزارتِ داخلہ سے بھی اپیل کی کہ وہ دیگر ریاستوں کو اس حوالے سے حساس بنائے تاکہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف حملوں اور ہراسانی کو روکا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا،’’مجھے امید ہے کہ وزارتِ داخلہ، حکومتِ ہند، دیگر ریاستوں کو بھی اسی طرز پر حساس بنائے گی۔
اگر جموں و کشمیربھارت کا اٹوٹ حصہ ہے تو کشمیری غیر محفوظ کیوں؟ :عمر عبداللہ