عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/ملی ٹینسی نیٹ ورک کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے، لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی قیادت میں جموں و کشمیر حکومت نے یونین ٹیریٹری میں ملی ٹینٹ تنظیموں سے روابط کے الزام میں پانچ سرکاری ملازمین کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق، برطرف کیے گئے ملازمین میں ایک استاد، ایک لیبارٹری ٹیکنیشن، ایک اسسٹنٹ لائن مین، محکمہ جنگلات کا ایک فیلڈ ورکر اور محکمہ صحت و طبی تعلیم کا ایک ڈرائیور شامل ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، محمد اسحاق، جو سرکاری استاد تھے، 2013 میں رہبرتعلیم کے طور پر تعینات اور بعد ازاں مستقل استاد بنے۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ وہ پاکستان میں قائم ملی ٹینٹ تنظیم لشکرِ طیبہ (ایل ای ٹی) کے لیے کام کر رہے تھے اور پاکستان سے سرگرم ایل ای ٹی کمانڈر محمد امین عرف ابو خوبیب جو حکومتِ ہند کے نامزد ملی ٹینٹ ہیںسے مسلسل رابطے میں تھے۔ حکام کے مطابق، اسحاق کو 2022 کے اوائل میں ضلع ڈوڈہ میں ایک پولیس افسر کے قتل کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، تاہم سکیورٹی ایجنسیوں نے نگرانی کے دوران اسے اپریل 2022 میں مہرین سے گرفتار کر لیا، جہاں سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا۔ تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ اسحاق نے بطور استاد اپنی حیثیت کا غلط استعمال کرتے ہوئے نوجوانوں کو انتہاپسند نظریات کی طرف مائل کیا اور جیل سے بھی شدت پسندی پھیلانے میں ملوث رہا۔
حکام کے مطابق، طارق احمد رہ، جو سب ڈسٹرکٹ اسپتال بیجبہارہ، اننت ناگ میں لیبارٹری ٹیکنیشن تھے، ابتدا ہی سے حزب المجاہدین کے زیرِ اثر تھے۔ وہ اپنے چچا امین بابا عرف عابدسابق ڈویژنل کمانڈر حزب المجاہدین کی مدد میں ملوث پائے گئے۔ ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (ایس آئی اے) کی تحقیقات میں سامنے آیا کہ طارق نے امین بابا کو اننت ناگ میں قیام، نقل و حمل اور اٹاری-واہگہ سرحد کے ذریعے پاکستان فرار کرانے میں مدد دی، جہاں وہ اب اسلام آباد میں مقیم ہو کر تربیتی کیمپ چلا رہے ہیں۔ یو اے پی اے کے تحت گرفتاری اور ضمانت کے بعد بھی ان کے ملی ٹینسی سرگرمیوں میں ملوث رہنے کے شواہد ملے ہیں۔
اسی طرح، بشیر احمد میر، جو پی ایچ ای محکمہ میں اسسٹنٹ لائن مین تھے، ضلع گریز، بانڈی پورہ میں لشکرِ طیبہ کے اوور گراؤنڈ ورکر (او جی ڈبلیو) کے طور پر سرگرم پائے گئے۔ پولیس کارروائی کے دوران ان کے گھر سے دو ملی ٹینٹ ہلاک اور اسلحہ برآمد ہوا، جس کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔
اسی طرح سے تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ فاروق احمد بٹ ، محکمہ جنگلات کے فیلڈ ورکر، اننت ناگ میں حزب المجاہدین کی مدد میں ملوث پائے گئے۔ تحقیقات کے مطابق، انہوں نے سرکاری شناختی کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے چیک پوسٹس عبور کر کے ایک مطلوب ملی ٹینٹ کو بین الاقوامی سرحد تک پہنچانے میں مدد دی۔ انہیں 2024 میں گرفتار اور 2025 میں ضمانت ملی، تاہم ان کے ملی ٹینٹ عناصر سے روابط برقرار رہے۔
محمد یوسف، جو محکمہ صحت و طبی تعلیم میں ڈرائیور تھے، پاکستان میں مقیم حزب المجاہدین کے ہینڈلرز سے مسلسل رابطے میں تھے۔ حکام کے مطابق، انہوں نے اسلحہ اور فنڈز کی ترسیل میں سہولت فراہم کی۔ 20 جولائی 2024 کو پولیس نے ان کی گاڑی سے پستول، گولہ بارود، گرینیڈ اور پانچ لاکھ روپے نقدی برآمد کئے، جس کی تفتیش میں ملی ٹینٹوں کے لیے سپلائی کی تصدیق ہوئی۔حکام نے کہا کہ سرکاری نظام کے اندر رہتے ہوئے دشمن عناصر کی مدد کرنے والے افراد ملک کی خودمختاری اور امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں.
جموں و کشمیر میں ملی ٹینٹوں سے مبینہ روابط کے الزام پر 5 سرکاری ملازمین برطرف