عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے پیر کے روز کہا کہ ریاستی درجہ نہ ہونے کے باوجود بھی اہم قوانین بنائے جا سکتے ہیں۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ یونین ٹیریٹری کی حکومت کو روزمرہ اُجرت پر کام کرنے والے مزدوروں، نئے انتظامی ڈویژنز اور اضلاع کے قیام اور زمین سے متعلق قوانین بنانے کا اختیار حاصل ہے۔جموں میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے وعدے پورے کرے، خاص طور پر ایک لاکھ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے اور ریزرویشن کے نظام کو معقول بنانے کے حوالے سے۔
محبوبہ مفتی نے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کے معاملات کا ازسرنو جائزہ لینے کی اپیل کی اور انسانی بنیادوں پر اُن کی مستقلی (ریگولرائزیشن) پر زور دیا، جسے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر حل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے ایس آر او سے متعلق مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان امور کو دوبارہ جانچنے کی ضرورت ہے تاکہ مزدوروں کے دیرینہ مسائل کا حل نکالا جا سکے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران قربانی کے جذبے سے سرشار ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کے فوجیوں میں لڑنے کا جذبہ نہیں جبکہ ایرانی پُرعزم اور کامیابی کے لیے پُراعتماد ہیں۔
ریاستی درجہ کے بغیر بھی زمین، اضلاع اور قوانین پر قانون سازی ممکن: محبوبہ مفتی