جموں//پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کے بعد جموں وکشمیر حکومت نے ڈوگرہ سوابھیمان سنگٹھن کے سربراہ لال سنگھ کو سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے سرکاری بنگلہ خالی کرنے کانوٹس جاری کیا گیا ہے۔
لال سنگھ نے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے نوٹس کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کہاکہ اگست کے آخر تک انہوںنے اپنے تمام بقایاجات ادا کر دئے ہیں اور بنگلہ خالی کرنے کی کارروائی قانون کے منافی ہے ۔
تفصیلات کے مطابق پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کے بعد ڈوگرہ سوابھیمان سنگٹھن کے سربراہ چودھری لال سنگھ کو سٹیٹس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے نوٹس جاری کی گئی جس میں انہیں سرکاری بنگلہ 15نومبر تک خالی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔
سابق وزیرسے کہاگیاہے کہ وہ اب بحیثیت وزیراپنی خدمات انجام نہیں دے رہے ہے لہذا انہیں سرکاری بنگلہ استعمال کرنے کاحق نہیں ہے۔ سٹیٹس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق دو نوٹسیں اس سے قبل بھی جاری کئے گئے ، اب تیسرا نوٹس جاری کیا گیا ہے اور چودھری کو کہا گیا ہے 15نومبر تک سرکاری بنگلہ خالی کریں تاکہ قانونی کارروائی سے بچ سکیں ۔
ادھر ڈوگرہ سوابھیمان سنگٹھن کے سربراہ چودھری لال سنگھ نے سٹیٹس ڈیپارٹمنٹ کی نوٹس کو بلاجواز اور قانون کے منافی قرار دیتے ہوئے کہاکہ انہوںنے اپنے تمام بقایاجات ادا کردیئے ہیں بحیثیت جموںو کشمیرکاشہری انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ سرکاری بنگلہ استعمال کریں۔
واضح رہے کہ ا سے پہلے پی ڈی پی صدر جموںو کشمیرکی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کوبھی فیئرویو بنگلہ 15نومبر تک خالی کرنے کی ہدایت دی گئی تھی ۔
چودھری لال سنگھ کو 15نومبر تک سرکاری بنگلہ خالی کرنے کی ہدایت