عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر اسمبلی کے جاری اجلاس کے دوران ایم ایل اے ڈاکٹر نریندر سنگھ کے ایک اہم سوال کے جواب میں حکومت نے یونین ٹریٹری میں کرشر یونٹس کی بندش، سیلنگ اور اُن کی ملکیت سے متعلق مفصل اعداد و شمار پیش کیے۔ حکومت نے واضح کیا کہ مختلف کارروائیوں کے تحت مجموعی طور پر 48 کرشر یونٹس کو ضلعی انتظامیہ، جے کے پی سی سی اور عدالت کے احکامات کی بنیاد پر بند یا سیل کیا گیا ہے۔سرکاری جواب کے مطابق جموں ضلع میں 2، رام بن میں 2، ریاسی میں 4، کشتواڑ میں 1، راجوری میں 1، پونچھ میں 7، اُدہم پور میں 2، پلوامہ میں سب سے زیادہ 28 اور کپواڑہ میں 1 کرشر یونٹ بند یا سیل کیا گیا۔
تاہم حکومت نے یہ وضاحت بھی پیش کی کہ دستیاب رپورٹس کے مطابق سیل شدہ کرشر یونٹس میں سے کوئی بھی یونٹ غیر قانونی کان کنی میں ملوث نہیں پایا گیا، حالانکہ عمومی طور پر ایسے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ڈاکٹر رینہ نے اپنے سوال میں اس اہم پہلو کی طرف بھی توجہ دلائی کہ جموں و کشمیر میں موجود کتنے کرشر یونٹس ایسے ہیں جن کی ملکیت سیاسی شخصیات، بیوروکریٹس یا ان کے قریبی رشتہ داروں کے پاس ہے؟ اس کے جواب میں حکومت نے اقرار کیا کہ یونین ٹریٹری میں 31 کرشر یونٹس براہ راست یا بالواسطہ طور پر بااثر شخصیات کی ملکیت میں ہیں۔
ایوان میں پیش کیا گیا یہ سرکاری جواب اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ کرشر انڈسٹری میں نہ صرف ریگولیشن کی ضرورت ہے بلکہ بااثر حلقوں کے کاروبار کی شفافیت کو بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق مرکزی زیر انتظام علاقے میں معدنی وسائل کے تحفظ اور غیر قانونی کان کنی کی روک تھام کے لیے سخت نگرانی ناگزیر ہو چکی ہے۔
جموں کشمیر میں 48کرشر یونٹس سیل: حکومت