عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ 3 جون کو اپنی گپکار رہائش گاہ پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کریں گے، جس میں گورننس اہم ایجنڈا رہنے کا امکان ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ نیشنل کانفرنس کے اراکینِ اسمبلی کے علاوہ حکومت کےحمایتی تمام آزاد ایم ایل ایز کو بھی اجلاس میں مدعو کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق جن آزاد اراکین کو دعوت دی گئی ہے ان میں اکرم چودھری (ایم ایل اے سرنکوٹ)، ڈاکٹر رامیشور سنگھ (ایم ایل اے بنی)، مظفر اقبال خان (ایم ایل اے تھنہ منڈی) اور پیارے لال شرما (ایم ایل اے اندروال) شامل ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں وزراء کی کارکردگی اور کام کاج پر بھی تبادلہ خیال کیے جانے کا امکان ہے۔
قبل ازیں یہ بتایا گیا تھا کہ وزیر اعلیٰ کی جانب سے نیشنل کانفرنس کے اراکین اسمبلی کو بھیجے گئے دعوتی خط میں کہا گیا تھا کہ اجلاس میں ’’اجتماعی اہمیت کے معاملات اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق امور‘‘ پر غور کیا جائے گا۔
ذرائع نے انکشاف کیا کہ یہ اجلاس حکومت کے ایک وزیر کے خلاف ایک مخصوص خطے کے اراکین اسمبلی میں پائی جانے والی ناراضگی کے پس منظر میں منعقد ہو رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس خطے سے تعلق رکھنے والے تین ایم ایل ایز نے عیدالاضحیٰ سے قبل وزیر اعلیٰ سے ملاقات کر کے مذکورہ وزیر کے خلاف سنگین شکایات درج کرائی تھیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کی تقسیم میں جانبداری برتی جا رہی ہے اور ان کے حلقوں کو نظر انداز کر کے وزیر کے اپنے حلقے کو غیر معمولی ترجیح دی جا رہی ہے۔
اسی ماہ سری نگر میں منعقدہ نیشنل کانفرنس کی صوبائی کمیٹی کے اجلاس میں وسطی کشمیر کے ایک رکن اسمبلی نے الزام عائد کیا تھا کہ مذکورہ وزیر نے ترقیاتی منصوبے کے سلسلے میں رابطہ کرنے پر انہیں پارٹی سے نکالنے کی دھمکی بھی دی تھی۔
3 جون کے اجلاس کے ایجنڈے یا وزیر کے خلاف عائد الزامات کے حوالے سے ردِعمل حاصل کرنے کی متعدد کوششیں کی گئیں، تاہم نیشنل کانفرنس کے رہنماؤں نے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
3 جون کووزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی اہم بیٹھک، گورننس اور عوامی مسائل پر ہوگاغور