-
عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر // معروف سیاسی کارکن انجینئر نذیر احمد یتو کے حق میں عدالت نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے انہیں تمام الزامات سے بری کر دیا۔ یہ مقدمہ سال 2020 میں پولیس اسٹیشن کوٹھی باغ میں دفعہ 188 آر پی سی کے تحت درج کیا گیا تھا، جس میں قانونی احکامات کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
تقریباً چھ برس تک جاری رہنے والی قانونی کارروائی کے بعد عدالت نے شواہد کی عدم موجودگی کی بنیاد پر ملزم کو بری کر دیا۔ استغاثہ کی جانب سے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے کوئی گواہ پیش نہیں کیا جا سکا۔
فیصلے کے بعد انجینئر نذیر احمد یتو نے کہا، “چھ سال لگے، مگر آخرکار انصاف ملا۔ مجھے ہمیشہ یقین تھا کہ عدلیہ ہی وہ ادارہ ہے جہاں میں اپنی بے گناہی ثابت کر سکتا ہوں اور جہاں سے منصفانہ فیصلہ ملے گا۔ آج کے فیصلے نے میرے اس یقین کو مزید مضبوط کیا ہے۔”
عدالتی فیصلے سے واضح ہو گیا ہے کہ الزامات کو ٹھوس اور قابلِ اعتبار شواہد کے ساتھ ثابت نہیں کیا جا سکا۔ اس طرح انجینئر نذیر احمد یتو نے خود کو الزامات سے بری کروا لیا ہے۔