عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// اپنی پارٹی کے سربراہ الطاف بخاری نے سرینگر میں واقع لوک بھون میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کی اور جموں و کشمیر میں حالیہ اور جاری قدرتی آفات کے باعث عوام کو درپیش مشکلات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ متاثرہ خاندانوں کے لیے جامع امداد، مناسب معاوضہ اور طویل مدتی بحالی کو یقینی بنایا جائے۔پارٹی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بخاری نے لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا سے ملاقات کے دوران جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں آنے والے اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور شدید بارشوں سے پیدا ہونے والی افسوسناک صورتحال پر گفتگو کی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اپنی پارٹی کے صدر نے لیفٹیننٹ گورنر پر زور دیا کہ انتظامیہ کی اولین ترجیح متاثرہ افراد اور خاندانوں کو فوری امداد، مناسب معاوضہ اور جامع بحالی ہونی چاہیے تاکہ کوئی بھی متاثرہ شخص امداد سے محروم نہ رہے اور سب کو بروقت سہولت میسر آئے۔
الطاف بخاری نے جاری بحران کے دوران ریاستی ڈیزاسٹر ریسپانس فنڈ (ایس ڈی آر ایف) کے تحت فوری امدادی رقوم کی فراہمی کو یقینی بنانے پر لیفٹیننٹ گورنر کا شکریہ بھی ادا کیا۔ انہوں نے خاص طور پر ضلع پونچھ اور راجوری کے شدید متاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی اور جانی نقصان کے پیش نظر امدادی اور بحالی کے اقدامات کو مزید مثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے ضلع پونچھ کے سرنکوٹ، مرہوٹ، سنگلاں، دارہ سنگلا، مررہ اور لورن، جبکہ ضلع راجوری کے راجوری قصبہ، بیلا کالونی، درہال، تھنہ منڈی اور کھنڈلی ندی کے کنارے واقع علاقوں میں قدرتی آفات کے شدید اثرات کو اجاگر کیا۔پارٹی کے بیان کے مطابق، اپنی پارٹی کے سربراہ نے لیفٹیننٹ گورنر کی توجہ بڈگام اور سرینگر اضلاع میں املاک کو پہنچنے والے وسیع پیمانے پر نقصان کی جانب بھی مبذول کرائی۔ اس کے علاوہ انہوں نے سرینگر کے ڈان ٹان کے علاقوں میں شدید آبی جماو اور سیلاب جیسی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مقامی رہائشیوں اور تاجروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے سید محمد الطاف بخاری کو یقین دلایا کہ انتظامیہ پوری طرح امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہے اور متاثرہ خاندانوں کو بروقت مدد فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔بیان کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر نے اپنی پارٹی کے صدر کو یقین دلایا کہ حکومت اس قدرتی آفت سے متاثرہ افراد کے لیے ہر ممکن امداد، معاوضہ اور بحالی کے اقدامات کو یقینی بنائے گی۔
آبی ذخائر پر تجاوزات کا جائزہ لینا ضروری
فوری اور طویل مدتی اصلاحی اقدامات شروع کرنے پر زور
عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// اپنی پارٹی سربراہ الطاف بخاری نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ایک جامع جائزہ لے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا انسانی سرگرمیوں نے جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں حالیہ اور جاری قدرتی آفات کے اثرات کو مزید سنگین بنانے میں کوئی کردار ادا کیا ہے۔اپنے ایک بیان میں بخاری نے کہا کہ یہ جاننا نہایت ضروری ہے کہ آیا ماحول کو نقصان پہنچانے والے اقدامات نے اس قدرتی آفت کے دوران ہونے والی تباہی کی شدت میں اضافہ کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا’’ ہمیں دیانت داری کے ساتھ یہ جائزہ لینا ہوگا کہ آیا کسی انسانی سرگرمی نے اس آفت کو مزید تباہ کن بنایا۔ ماہرین کو شامل کیا جانا چاہیے تاکہ وہ یہ اندازہ لگا سکیں کہ انسانی اعمال نے تباہی کے دائرہ کار کو کس حد تک بڑھایا ہے‘‘۔اپنی پارٹی کے صدر نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تحقیق کی جائے کہ آیا آبی ذخائر پر تجاوزات، پہاڑی ڈھلوانوں پر تعمیرات، بڑے پیمانے پر جنگلات کی کٹائی، دریاں اور پہاڑوں سے ریت، بجری اور پتھروں کا حد سے زیادہ نکالنا، اور ماحول کو نقصان پہنچانے والی دیگر سرگرمیوں نے اس آفت کو مزید سنگین بنانے میں کوئی کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا’’ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ ان عوامل نے تباہی میں اضافہ کیا ہے تو حکومت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے اقدامات کرے۔ مستقبل کے خطرات کو کم کرنے اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے فوری اور طویل المدتی اصلاحی اقدامات ناگزیر ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ جہاں جہاں ماحولیاتی بگاڑ کو واپس لایا جا سکتا ہے، وہاں متاثرہ ماحولیاتی نظام کی بحالی اور احیا کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جن علاقوں میں نقصان ناقابلِ تلافی ہو چکا ہے، وہاں ماحولیات اور قدرتی نظام کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جانے چاہییں۔سید محمد الطاف بخاری نے حکام اور عوام سے پرزور اپیل کی کہ حالات معمول پر آنے کے بعد حالیہ قدرتی آفات سے حاصل ہونے والے اسباق کو فراموش نہ کیا جائے۔انہوں نے کہا، جیسے جیسے موسم بہتر ہوگا اور زندگی معمول پر آئے گی، ہمیں ان سانحات اور وسیع پیمانے پر ہونے والی تباہی کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ ان انسانی غلطیوں کی نشاندہی اور اصلاح کرنی ہوگی جنہوں نے ممکنہ طور پر اس آفت کو مزید تباہ کن بنا دیا۔دریں اثنا، سید محمد الطاف بخاری نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قدرتی آفت سے متاثر ہونے والے ہر فرد اور ہر خاندان کو بروقت امداد اور ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے۔انہوں نے کہا، حکومت کی اولین ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ قدرتی آفت کے متاثرین کی امداد اور معاوضے کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان کی باز آباد کاری کے لئے اقدامات کئے جائیں۔انہوں نے مزید کہا، متاثرہ علاقوں میں یہ کام ایک خصوصی مہم کے طور پر انجام دیا جانا چاہیے تاکہ کوئی بھی متاثرہ شخص نظرانداز نہ ہو اور ہر مستحق خاندان کو بروقت امداد اور تعاون میسر آ سکے۔