عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس بدھ کے روز صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو کے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے ساتھ شروع ہوا۔پارلیمانی امور اور اقلیتی امور کے وزیر، کرن رجیجو نے کہا کہ ’’ہم وکست بھارت کے لیے نتیجہ خیز بجٹ اجلاس کے لیے پر امید ہیں۔‘‘اجلاس میں 29 جنوری کو اقتصادی سروے پیش کیا جائے گا ، جس میں معیشت کی موجودہ صورت حال کا جامع جائزہ پیش کیا جائے گا۔اس کے بعد 2026-27 کا مرکزی بجٹ پیش کیا جائے گا ، جسے وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن یکم فروری کو پیش کریں گے ۔
چیف اکنامک ایڈوائزر کی نگرانی میں محکمہ اقتصادی امور کے اکنامک ڈویژن کی جانب سے تیار کردہ اکنامک سروے 2025-26 کے لیے ہندوستانی معیشت کا جامع جائزہ فراہم کرتا ہے اور آئندہ مالی سال کے امکانات کا خاکہ پیش کرتا ہے ۔
بجٹ اجلاس 65 دنوں پر محیط ہوگا جس میں کل 30 نشستیں ہوں گی اور اس کا اختتام 2 اپریل کو ہوگا۔ پارلیمنٹ 13 فروری کو وقفے کے لیے ملتوی ہوگی اور 9 مارچ کو دوبارہ اجلاس شروع ہوگا، تاکہ اسٹینڈنگ کمیٹیاں مختلف وزارتوں اور محکموں کے گرانٹس کے مطالبات کا جائزہ لے سکیں۔اجلاس سے قبل منگل کو وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی صدارت میں ایک آل پارٹی میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اجلاس کے دوران اٹھائے جانے والے امور پر تبادلۂ خیال کیا اور پارلیمنٹ کے ہموار کام کاج کے لیے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
یہ میٹنگ پارلیمانی امور اور اقلیتی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجو نے طلب کی تھی۔ اس میں صحت و خاندانی بہبود اور کیمیکلز و فرٹیلائزرز کے مرکزی وزیر جگت پرکاش نڈا بھی شریک ہوئے، جو راجیہ سبھا میں ایوان کے لیڈر بھی ہیں۔ اس کے علاوہ وزیر مملکت (آزادانہ چارج) قانون و انصاف اور پارلیمانی امور ارجن رام میگھوال، اور پارلیمانی امور اور اطلاعات و نشریات کے وزیر مملکت ڈاکٹر ایل مرگن بھی موجود تھے۔آل پارٹی میٹنگ میں 39 سیاسی جماعتوں کے 51 رہنماؤں، جن میں وزرا بھی شامل تھے، نے شرکت کی۔پارلیمانی امور کے وزیر نے تمام رہنماؤں سے پارلیمنٹ کے ہموار کام کاج میں تعاون کی اپیل کی اور کہا کہ حکومت دونوں ایوانوں کے ضابطے کے مطابق کسی بھی اہم مسئلے پر بحث کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
بجٹ اجلاس کا آغاز: ’وکست بھارت‘ کے لیے نتیجہ خیز اجلاس کی امید: رجیجو