غلام نبی آزاد نے جس تھالی میں کھایا اسی میں چھید کیا: عمر عبداللہ

File Photo

یو این آئی

جموں// جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے اتوار کے روز کہاکہ سابق وزیرا علیٰ غلام نبی آزاد بی جے پی کے اشاروں پر ناچ رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ غلام نبی آزاد بی جے پی امیدواروں کی کامیابی کو یقینی بنانے کی خاطر ہی الیکشن عمل میں کود پڑا ہے۔
عمر عبداللہ نے درگاہ حضرت بل کے امام و خطیب کو برطرف کرنے کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حد تو یہ ہے کہ عید الفطر کے روز بھی ملازمین کو ڈیوٹی پر حاضر ہونا پڑا۔
اطلاعات کے مطابق اتوار کے روز بانہال کے کھاری میں روڈ شو کے دوران عمر عبداللہ نے لوگوں سے خطاب کے دوران کہاکہ اس بار کا پارلیمانی الیکشن غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے کہاکہ بی جے پی نے جموں وکشمیر کے لوگوں کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ کیا اور ریاست کا درجہ چھین کر اس کویونین ٹریٹری میں تبدیل کیا۔
عمر عبداللہ نے کہا :’سال 2019کے بعد بی جے پی نے جموں وکشمیر کے لوگوں کو دکھ کے سوا کچھ نہیں دیا۔‘
ان کے مطابق بھارتیہ جنتاپارٹی کی جانب سے بلند بانگ دعوئے کئے جارہے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ بھاجپا نے جموں وکشمیر کے عوام کے لئے کچھ بھی نہیں کیا۔
غلام نبی آزاد کو ہدفہ تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ کانگریس نے آزاد کو عزت و قار اور رتبہ دیا اور بدلے میں اس نے کانگریس کے ساتھ بے وفائی کی ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آج غلام نبی آزاد کی یہ حالت ہے کہ وہ کئی پر اپنے امیدوار کھڑا بھی نہیں کرسکتا۔ ان کے مطابق جہاں تک ادھم پور پارلیمانی نشست سے سروڑی کو بطور امیدوار کھڑا کرنے کا تعلق ہے تو میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ غلام نبی آزاد نے مسلم ووٹوں کو کاٹنے کی خاطر ہی سروڑی کو چناوی میدان میں اتارا ۔
انہوں نے کہاکہ غلام نبی آزاد کو اس بات کی پوری علمیت ہے کہ ان کے امیدوار جیت نہیں سکتے لہذا بھاجپا کے امیدواروں کو فائدہ پہنچانے کی خاطر ہی وہ ایسا کر رہے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ غلام نبی آزاد بھارتیہ جنتاپارٹی کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کانگریس امیدوار کے حق میں اپنی رائے دہی کا استعمال کریں کیونکہ کانگریس کے بغیر کسی اور کو ووٹ دینا بی جے پی امیدوار کو کامیاب کرانے کے مترادف ہوگا۔
عمر عبداللہ نے مزید بتایاکہ جموں وکشمیر کی موجودہ صورتحال کے لئے بی جے پی اور اس کے پراکسی پارٹیاں ذمہ دار ہیں ۔
درگاہ حضرت بل سری نگر کے امام و خطیب کو عہدے سے ہٹانے کے بارے میں عمر عبداللہ نے کہا:’جمعتہ الوداع کے موقع پر میں بھی درگاہ حضرت بل میں موجود تھا، امام صاحب نے غیر مقامی شہری کو چار دفعہ کہا کہ وہ کسی دباو میں آکر تو اسلام قبول نہیں کر رہے اس کے جواب میں غیر مقامی شہری نے کہاکہ وہ اپنی مرضی سے ایسا کر رہے ہیں جس کے بعد اس نے کلمہ پڑا۔‘
ان کے مطابق غیر مقامی شہری کی جانب سے اسلام قبول کرنے کے بعد درگاہ حضرت بل کے امام و خطیب کو عید نماز کی پیشوائی کرنے کی اجازت نہیں دی گئی جو حیران کن ہے۔
عید الفطر کے روز ملازمین کوڈیوٹی پر حاضر رہنے کے بارے میں عمر نے کہاکہ بدقسمتی سے کہنا پڑ رہا ہے کہ پہلی دفعہ ملازمین کو عید الفطر کے روز بھی ڈیوٹی پر جانا پڑا۔
انہوں نے کہاکہ باقی فرقوں سے تعلق رکھنے والوں کو تہواروں کے موقع پر چھٹی دی جاتی ہیں لیکن عید الفطر کے روز یہاں کے مسلمانوں کو ڈیوٹی دینی پڑی۔