عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں منگل کے روز شدید بارش کے باعث پانی کی سطح اچانک بڑھنے سے ایک اسکول ہاسٹل میں پھنسے 34 افراد کو فوج نے بحفاظت نکال لیا۔حکام کے مطابق مسلسل اور تیز بارش کے نتیجے میں رفیع آباد کے واٹرگام علاقے میں ایک ندی میں پانی کی سطح اچانک بلند ہوگئی، جس کے باعث مقامی اسکول کے ہاسٹل میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی۔ اس دوران 30 طلبہ اور چار اساتذہ عمارت کے اندر محصور ہو گئے اور باہر نکلنے کا کوئی محفوظ راستہ نہیں رہا۔
انہوں نے بتایا کہ مقامی لوگوں نے قریبی فوجی یونٹ سے رابطہ کیا، جس نے فوری طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ریسکیو آپریشن شروع کیا۔حکام نے کہامشکل حالات اور خطرناک حد تک بلند پانی کی سطح کے باوجود، ٹیمیں محصور افراد تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں اور تمام 34 افراد کو بحفاظت محفوظ مقامات تک منتقل کیا گیا۔ریسکیو کے بعد فوج نے بچوں اور عملے کو طبی امداد اور دیگر ضروری سہولیات بھی فراہم کیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس آپریشن میں پولیس، ضلعی انتظامیہ اور مقامی نوجوانوں نے بھی فوج کی مدد کی۔
دریں اثنا، ضلع بانڈی پورہ کے گریز سیکٹر کے تلیل علاقے میں برفانی تودہ گرنے کی اطلاع بھی ملی، تاہم حکام کے مطابق اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا کیونکہ یہ پہاڑی علاقے تک محدود رہا۔وادی کشمیر میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران میدانی علاقوں میں درمیانی درجے کی بارش جبکہ بلند علاقوں میں برفباری ریکارڈ کی گئی۔
بارہمولہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 70 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی، جو وادی میں سب سے زیادہ ہے۔ ہندواڑہ کے نوگام علاقے میں 58.2 ملی میٹر، قاضی گنڈ میں 48.6 ملی میٹر اور کولگام میں 42.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ سرینگر شہر میں بھی 31.6 ملی میٹر بارش ہوئی۔محکمہ موسمیات کے مطابق بدھ کے روز موسم ابر آلود رہنے کا امکان ہے جبکہ ہفتے کے آخر میں ایک اور بارشوں کا سلسلہ متوقع ہے۔
فوج کی بروقت بچاؤ کارروائی رنگ لائی ،بارہمولہ میں اسکول ہاسٹل میں پھنسے 34افراد بچ گئے