عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/ یومِ آئین کے موقعے پر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ ملک میں آئینی اصولوں اور جمہوری قدروں پر عملدرآمد میں مسلسل کمی دیکھی جارہی ہے، جس سے آئین کے بنیادی ڈھانچے اور اس کی روح کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے اپنے قیام کے دن سے آج تک آئین کی بالادستی، جمہوریت کی پاسداری اور سبھی شہریوں کے حقوق کے احترام کو اپنا بنیادی نصب العین بنایا ہے۔ ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ ہندوستان کا آئین دنیا بھر میں کثرت، مساوات اور مذہبی آزادی کی علامت مانا جاتا تھا، جہاں ہر مذہب، ہر طبقے اور ہر رنگ کے لوگوں کو عزت و احترام کے ساتھ جینے کی آزادی حاصل تھی۔
انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ گزشتہ برسوں میں آئینی اصولوں کی خلاف ورزیاں بڑھ گئی ہیں۔ لوگوں کی مذہبی آزادی میں مداخلت ہورہی ہے، اظہارِ رائے کی آزادی محدود کردی گئی ہے، سچ بولنے پر قدغن لگ رہی ہے اور اقلیتوں کو حاشیے پر دھکیلا جارہا ہے۔ آئین کے منافی اقدامات روزمرہ کا معمول بنتے جارہے ہیں، جو تشویشناک ہے۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اسی آئین کے تحت جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی پوزیشن کو 5 اگست 2019 کو غیر آئینی اور غیر جمہوری طریقے سے ختم کیا گیا۔ ان کے مطابق حکمران جماعت نے صدر راج کا سہارا لے کر پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت کا غلط استعمال کیا، جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ سے محروم کیا اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرکے مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تبدیل کردیا۔ یہ فیصلے طاقت کے بل پر مسلط کئے گئے اور عوام نے انہیں کبھی قبول نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی حکومت کے معرضِ وجود میں آتے ہی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں 5 اگست 2019 کے فیصلوں کیخلاف قرارداد منظور کی گئی، جو جموں و کشمیر کے عوام کی حقیقی آواز کی نمائندگی کرتی ہے۔
ڈاکٹر فاروق نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی غلطیوں کی تلافی کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے آئینی و جمہوری حقوق بحال کرے، ریاستی درجہ واپس دے اور عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرے۔
انہوں نے کہا کہ آئین کا احترام ہی ملک کی سالمیت، یکجہتی اور جمہوریت کی ضامن بنیاد ہے، لہٰذا سبھی سیاسی قوتوں اور اداروں کو اس کی پاسداری یقینی بنانی چاہئے۔
ملک میں آئینی اصولوں کی پاسداری کمزور پڑ رہی ہے: ڈاکٹر فاروق عبداللہ