عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز کہا کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی کو جنتر منتر میں دیے گئے اپنے متنازع بیان کو ’’اے آئی سے تیار کردہ‘‘قرار دینے کے بجائے عوام سے معافی مانگنی چاہیے، کیونکہ ان کے مطابق یہ بیان جموں و کشمیر میں اختیارات کے ناجائز استعمال کو جائز ٹھہراتا ہے۔سری نگر میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئےعمر عبداللہ نے کہا کہ محبوبہ مفتی کے ریمارکس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ عسکریت پسندی کے نام پر گرفتاریوں، انصاف سے محرومی اور دیگر سخت اقدامات کو درست قرار دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا، میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ عسکریت پسندی کی موجودگی کس طرح لوگوں کو انصاف سے محروم رکھنے، پاسپورٹ روکنے یا قانون کی حکمرانی کو کمزور کرنے کا جواز بن سکتی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب ان ریمارکس پر عوامی سطح پر شدید تنقید ہوئی تو پی ڈی پی نے اپنے ایک رکن اسمبلی کے ذریعے اس ویڈیو کو ’’اے آئی سے تیار کردہ‘‘قرار دے کر مسترد کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا، جنتر منتر میں ملک بھر کے میڈیا ادارے موجود تھے۔ مختلف میڈیا اداروں نے ویڈیوز ریکارڈ کیں اور متعدد چینلز کے مائیکروفون بھی واضح طور پر نظر آ رہے تھے۔ ایسے میں اسے اے آئی کہنا عوام کی ذہانت کی توہین ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر محبوبہ مفتی سے جذبات میں آ کر یہ بیان دیا گیا تھا تو انہیں پریس کانفرنس کر کے اس پر معذرت کرنی چاہیے تھی۔انہوں نے کہا، ہر انسان سے غلطی ہو سکتی ہے۔ وہ آسانی سے یہ کہہ سکتی تھیں کہ جذبات میں آ کر ایسا بیان دیا اور اس پر معافی مانگ لیتی، لیکن اس کے برعکس ویڈیو کو جعلی قرار دے کر زخموں پر نمک چھڑکنے کی کوشش کی گئی۔
وزیر اعلیٰ نے پی ڈی پی صدر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہ تو 2015 میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ اتحاد پر کبھی معافی مانگی اور نہ ہی 2016 کے حالات اور دیگر متنازع فیصلوں پر افسوس کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا، آپ نے نہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد پر معذرت کی اور نہ ہی 2016 میں جو کچھ ہوا اس پر۔ اب جنتر منتر میں دیے گئے بیان کو تسلیم کرنے کے بجائے اسے اے آئی قرار دیا جا رہا ہے۔
جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کا حوالہ دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس نوعیت کے بیانات عوام کو جمہوری احتجاج میں حصہ لینے سے بھی بددل کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا، اگر کل ہم ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے احتجاج کریں تو لوگ باہر آنے سے ہچکچائیں گے، کیونکہ ایسے بیانات سے یہ پیغام جاتا ہے کہ احتجاج کو دبانا درست عمل ہے، جو انتہائی تشویشناک بات ہے۔
مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے حالیہ استعفے پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ فیصلہ اگرچہ تاخیر سے آیا، تاہم اس کا سہرا کسی سیاسی جماعت کو نہیں بلکہ احتجاج کرنے والے طلبہ کو جاتا ہے۔انہوں نے کہا، اس کا پورا کریڈٹ ان طلبہ کو جاتا ہے جنہوں نے تمام مشکلات کے باوجود اپنی تحریک جاری رکھی اور ہمت نہیں ہاری۔
عمر عبداللہ نے یہ بھی کہا کہ بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کر کے عسکریت پسندی کا خاتمہ ممکن نہیں اور ایسے اقدامات عوام کو مزید دور دھکیلنے کا سبب بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا، اگر تین ہزار افراد کو حراست میں لیا جاتا ہے تو تقریباً پندرہ ہزار خاندان کے افراد متاثر ہوتے ہیں۔ ایسے اقدامات وقتی نتائج تو دے سکتے ہیں، لیکن پائیدار امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب عوام کا اعتماد اور تعاون حاصل کیا جائے۔
جنتر منتر بیان کو ’اے آئی‘ قرار دینے کے بجائے محبوبہ مفتی معافی مانگیں: عمر عبداللہ