اعلیٰ حکام کاسیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ علاقوں کا دورہ ، فوری بحالی اور راحتی اقدامات تیز کرنے کی ہدایت
سمت بھارگو
راجوری//پیر پنچال کے سرحدی اضلاع راجوری اور پونچھ میں 19 جولائی کو آنے والے تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد مسلسل بارش نے بحالی کے تمام عمل کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ چار روز گزرنے کے باوجود ضلع پونچھ مکمل طور پر بجلی سے محروم ہے جبکہ راجوری کے متعدد علاقوں میں بھی بجلی کی فراہمی معطل ہے۔ مسلسل بارش، دریاؤں میں پانی کی بلند سطح اور دشوار گزار حالات کے باعث بجلی، پانی، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی بحالی میں تاخیر ہو رہی ہے، جس سے متاثرہ عوام کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ بجلی کی بحالی ہے۔ ضلع پونچھ کی مکمل بجلی فراہمی 132 کے وی اے مین ٹرانسمیشن لائن کو پہنچنے والے شدید نقصان کے باعث بند ہے۔ یہ لائن راجوری کے تھنہ منڈی سب ڈویژن میں شدید متاثر ہوئی تھی، جہاں محکمہ بجلی کی ٹیمیں مسلسل خراب موسم کے باوجود بحالی کے کام میں مصروف ہیں۔محکمہ بجلی کے حکام نے بتایا کہ مسلسل بارش اور دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے سے کام میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، تاہم خراب ٹاورز کو بائی پاس کرنے سمیت اہم مرمتی کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ حکام نے امید ظاہر کی کہ اگر موسم نے ساتھ دیا تو بدھ کی شام یا جمعرات کی صبح تک ضلع پونچھ میں بجلی کی فراہمی بحال کر دی جائے گی۔
راجوری ضلع میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ راجوری۔تھنہ منڈی اور راجوری۔منجاکوٹ فیڈرز شدید متاثر ہوئے ہیں۔ محکمہ کے مطابق منجاکوٹ فیڈر کی بحالی کا کام تقریباً مکمل ہے جبکہ تھنہ منڈی فیڈر کو شدید نقصان پہنچنے کے باعث اس کی مکمل بحالی میں مزید وقت درکار ہوگا۔سیلاب نے محکمہ جل شکتی کے درجنوں واٹر سپلائی اسکیموں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ متعدد پمپنگ اسٹیشنوں کی مشینری، پائپ لائنیں، موٹر روم اور دیگر بنیادی ڈھانچے پانی کے تیز بہاؤ میں بہہ گئے، جس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں پینے کے پانی کا شدید بحران پیدا ہوگیا ہے۔ انتظامیہ متاثرہ علاقوں میں عارضی طور پر ٹینکروں کے ذریعے پانی فراہم کر رہی ہے تاکہ عوام کو بنیادی سہولت میسر آ سکے۔دوسری جانب سیلاب میں لاپتہ ہونے والے افراد کی تلاش کا سلسلہ بھی بدھ کو مسلسل جاری رہا، تاہم کوئی نئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ ضلع پونچھ میں آٹھ جبکہ راجوری میں محکمہ جل شکتی کا ایک ملازم تاحال لاپتہ ہے۔ این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف، جموں و کشمیر پولیس، فوج اور دیگر متعلقہ اداروں کی مشترکہ ٹیمیں مسلسل سرچ آپریشن چلا رہی ہیں۔ فوج کی جانب سے جدید ڈرون ٹیکنالوجی بھی استعمال کی جا رہی ہے، تاہم خراب موسم اور تیز بہاؤ کے باعث تلاش کا عمل انتہائی دشوار ثابت ہو رہا ہے۔دریں اثنا عوامی نمائندوں اور حکومتی شخصیات نے بھی متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لیا۔ رکن پارلیمان میاں الطاف احمد نے پونچھ کے بعد راجوری پہنچ کر سیلاب زدہ علاقوں کا معائنہ کیا، متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی اور ضلعی انتظامیہ کے افسران کے ساتھ بحالی اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔منگل کی شام جموں و کشمیر حکومت کے وزراء جاوید احمد رانا اور ستیش شرما نے بھی راجوری پہنچ کر نقصانات کا جائزہ لیا اور ریلیف مراکز میں مقیم متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی۔بدھ کے روز نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری راجوری اور پونچھ کے متاثرہ علاقوں کے دورے پر پہنچے۔ انہوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا معائنہ کرنے کے بعد ضلع ہیڈکوارٹر راجوری میں ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں ایم ایل اے راجوری افتخار احمد، ایم ایل اے تھنہ منڈی مظفر اقبال خان، ڈپٹی کمشنر راجوری ابھیشیک شرما سمیت مختلف محکموں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی اور بحالی کے کاموں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس کے دوران نائب وزیر اعلیٰ نے تمام متعلقہ محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایت دی کہ بجلی، پانی، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی بحالی کو جنگی بنیادوں پر مکمل کیا جائے تاکہ متاثرہ عوام کو جلد از جلد ریلیف فراہم کیا جا سکے۔انتظامیہ نے اجلاس کو بتایا کہ ضلع بھر میں تمام لائن محکمے ریسکیو، راحت اور بحالی کے کاموں میں مسلسل مصروف ہیں۔ ابتدائی طور پر چار افراد لاپتہ تھے جن میں سے تین کی لاشیں برآمد ہو چکی ہیں جبکہ ایک شخص کی تلاش جاری ہے۔ ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف، پولیس، فوج اور دیگر ادارے مکمل باہمی رابطے کے ساتھ امدادی کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔