عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/پارلیمانی امور کے وزیر کرن ریجیجو نے بدھ کے روز راجیہ سبھا میں کہا کہ کانگریس کے علاوہ تمام اہم جماعتیں ایوان میں نیشنل ایلیجیبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) پیپر لیک کے معاملے پر بحث کے لیے تیار ہیں، صرف کانگریس ہی اس میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔ریجیجو نے ایوان میں نیٹ پیپر لیک اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے خلاف اپوزیشن اراکین کے شور شرابے کے درمیان کہا کہ حکومت ہر معاملے پر بحث کرانے کے لیے تیار ہے۔ چیئرمین سے بات کر کے وقت طے کیا جائے گا اور کوئی بھی بحث قوانین کے مطابق ہی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تمام اہم جماعتوں کے رہنماؤں سے بات چیت کی گئی ہے۔ سبھی چاہتے ہیں کہ بحث ہو، لیکن کانگریس اس کے لیے تیار نہیں ہے، جبکہ وہ خود اس کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ کانگریس کے اراکین مطالبہ کرتے ہیں اور پھر نعرے بازی اور شور شرابہ کرنے لگتے ہیں۔ایوان کے قائد جگت پرکاش نڈا نے پارلیمانی امور کے وزیر کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کا جمہوریت پر اعتماد ہی نہیں ہے۔
ایوان میں قائدِ حزبِ اختلاف ملیکارجن کھرگے نے کہا کہ ان کی پارٹی بھی بحث چاہتی ہے لیکن پہلے وزیر تعلیم کا استعفیٰ ہونا چاہیے۔ اس کے بعد ہی غیر جانبدارانہ بحث ہو سکتی ہے۔اس دوران نائب چیئرمین ہری ونش نے ایوان کو مطلع کیا کہ رول 267 کے تحت بحث کرانے کی تجاویز قوانین کے مطابق نہیں پائی گئی ہیں، اس لیے انہیں مسترد کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت بحث صرف غیر معمولی حالات میں ہی کرائی جاتی ہے۔ اس پر ڈی ایم کے کے ترُوچت شیوا نے کہا کہ یہ ایک استثنائی معاملہ ہی ہے۔اسی دوران شور شرابا تیز ہو گیا اور نائب چیئرمین نے کارروائی تین بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔
نیٹ کے معاملے پر کانگریس کے بغیر تمام جماعتیں بحث کے لیے تیار: ریجیجو