ڈاکٹر گلزار احمد وانی
طاقت کا ہمیشہ سے ہی دبدبہ رہا ہے۔ وہ چاہے معشیاتی لحاظ سے ہو ، سماجیاتی ہو یا کسی اور قسم کی ۔ اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس ۔ اس طاقت کے نشے میں اپنی اپنی جگہ ہر کوئی چور ہوتا ہے۔ دنیا میں راج کرنے والے اقوام کی جب تاریخ پڑھی جاتی ہے تو طاقت کے بل پر ہی فتوحات قوموں کے ہاتھ لگی ہیں ۔ اور جن کے پاس طاقت نہیں وہ قوم پسی جاتی ہے اسی طرح جس طرح پتھر کے دو پاٹوں میں چاول ۔ اس پر بھی ظلم کی انتہا یہی رہتی ہے کہ ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری۔ کسی نے یہ بات سولہ آنے درست کہی ہے کہ best deffence is attack ۔آپ اپنی صفائی میں کتنےہی صاف و شستہ کیوں نہ ہو پر بغیر طاقت کے آپ کی بات میں صداقت کی بو نہیں آسکتی ہے۔ جب تک نہ طاقت کی خو اس میں شامل ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ادب کے معاملے میں بھی طاقت ہی کی طاقت کام آتی ہے اور بڑے سے بڑا انعام بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ سیاسی کھیل جیت سکتے ہیں ، نوکری حاصل کر سکتے ہیں ۔ یہاں آپ کی محنت و مشقت رائیگاں ہو سکتی ہے جب تک نہ آپ کے پاس کسی طرح کی طاقت ساتھ ساتھ ہو۔ دنیا پہ راج کرنے والی شخصیات کی جیونی پر جب نظر دوڑائی جاتی ہے تو اسی سبق کے عنوانات نظر سے گزرتے ہیں۔ آپ کی بات کو تب تک درست تصور نہ کیا جائے گا جب تک نہ اس میں سماجیاتی لحاظ سے آپ کے پس پشت کوئی وقار شامل حال نہ ہو۔ اگر پھر آپ کی بات میں کوئی بھی صداقت موجود نہ ہو پھر اگر آپ کی طاقت کا جال پھیلا ہوا ہو تو آپ کی بات آب زر سے لکھی جانے کے قابل ہوسکتی ہے ۔
دیکھا جائے تو سینہ زوری بالادستی کا دوسرا اور سب سے افضل نام ہے۔ آپ نے مشاہدہ ضرور کیا ہوگا کہ زندگی کے ہر اک شعبے میں ہر جا اسی بالا دستی کا دوردورہ ہے۔ اور بیچ بنھور سے کشتی نکالنے والے بھی یہی افراد ہوتے ہیں۔ اب یہ ان لوگوں کی کیٹگری بھی الگ ہی ہوتی ہے میرا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ بھی دل کے نحیف و نژار ہوں تو آپ چاہ کر بھی سینہ زوری نہیں دکھا سکتے ہیں میری طرح۔ میں اگر چاہتا بھی ہوں کہ میں بھی زندگی کی دوڑ میں پیش قدمی دکھاؤں، تو ہر کسی کا مشورہ یہی ہوتا ہےکہ بہادر بنو ، معمولی معمولی چیزوں اورمصیبت کے محازوں پر دل شکستہ نہ ہو بلکہ چاک و چوبند رہو تاکہ کسی بھی مزاحمت سے بہ آسانی مقابلہ کر سکو۔ لیکن ایک سو ایک فی صد جلال و جذبہ کی حرارت دل میں بھر کر جب کبھی اس سفر میں معمولی ٹھوکر بھی لگ جاتی ہے تو دل پس و پیش میں گرفتار ہوجاتا ہے اور پھر تھوڑے سے فاصلے پر اگر کسی ٹھوکر کا سامنا پھر ہو جائے تو دل ہار مان لیتا ہے اور سینہ زوری کی تمام کمانیں خم ہو کر گرد آلود ہو جاتی ہیں۔ دنیا کی تاریخ پر اگر سرسری نظر دوڑائی جائے تو سینہ زوری سے تمام محاذ سر کئے جاتے ہیں کہیں کہیں پر اگر اسے معیوب بھی سمجھا جائے تو کوئی بات نہیں پر وہیں اکثر جگہوں پر اس کی اپنے آپ بالا دستی قائم رہتی ہے۔ اور دور جدید میں اس کے قصیدے لکھے گئے ہیں۔ جس سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اس کی آج بھی اپنی حکومت اپنی مملکت میں قائم ہے۔کبھی کبھار ایسا بھی لگتا ہے کہ اس کا راج تاج کچھ زیادہ ہی سر چڑ کر بول رہا ہے جس سے احمد کی ٹوپی محمد کے سر سجتی ہے۔ اس کے محیر العقول واقعات کی کہانیاں اور افسانے آئے روز ہماری نظروں سے گذرتے ہیں۔ سینہ تان کے چلنے والوں نے بارہا کوشش کی ہے کہ ہم بھی سینہ زوری دکھا سکیں مگر ایسا کرنا صرف دکھاوے کی حد تک ہی ٹھیک ہے ورنہ ہاتھی کے دانت کھانے اور دکھانے کے اور ہیں۔
اس مرعوب کیفیت سے بہت سے لوگوں نے اپنے اپنے طور سے بارہا کوشش کی اور کچھ کامیاب ہیں تو کچھ ناکام۔مگر اس حمام میں سبھی ننگے ہیں اور اس دوڑ میں سبھی لوگ برہنہ پا اور لنگوٹی کس کی اترنا چاہتے تھے مگر جہاں تک مشاہدے کی بات ہے تو دیکھا جاتا ہے کہ ہمسایہ نے اپنی سینہ زوری اپنے ہمسایہ کو دکھانے میں کوئی بھی کسر اٹھا نہ رکھی ۔ اونچی اونچی دیواریں وجود میں آگئیں۔ بڑی بڑی اور مہنگی مہنگی گاڑیاں لائی گئیں ۔مکانات کومحل نما بنایا گیا جب پھر بھی پیاس نہیں بجھی تو اور بھی حربے استعمال کر لئے گئے ۔ بس اس دور جدید میں نفرت کی اونچی دیواریں وجود میں آگئیں اور محبت و اخوت اور آپسی بھائی چارے کی دھجیاں اڑ گئیں۔اب تو انسان اسی جلن میں اپنا چلن ڈھونڈ رہا ہے کہ اس کا نام نامیوں میں درج ہو ۔ ویسے تو بالا دستی کے اس دکھاوے میں سب کی رگ پھڑکتی ہوئی دکھائی دیتی ہے اور سب اپنی باسی کڑھی میں ابال لانا چاہتے ہیں ۔ کبھی اس کوشش میں وہ رتبے کے لحاظ سے بڑے لوگوں کی جوتیاں سیدھی کرتے ہیں تو کبھی اپنے جلے پھپھولے پھوڑنا چاہتے ہیں مگر ان کے خوابوں پر کبھی کبھار ہی رنگ چڑ جاتا ہے۔ اور اکثر بیشتر اپنے ہی اوپر زنگ چڑھاتے ہوئے کوشاں ہوتے ہیں۔ اور دوسروں کی نصیحت کو طاق نسیاں پر رکھ دیتے ہیں۔
جماعت کے کمروں میں بھی طالب علموں کی غنڈہ گردی کی بالادستی دکھائی دیتی ہے جس سے قابل ہونہار اورعر محنتی بچے کچھ مدت تک مرعوب رہتے ہیں اور وہ سبک روی سے اپنی محنت جاری رکھتے ہوئے کامیابی کے مدارج طے کرتے ہیں۔ اور اپنے من کی من میں ہی رکھتے ہیں جس سے اسکولی فضا میں ایک قسم کی وہ جلی ہوئی بو آتی ہے اور اسکول کا نظم و نسق بھی تباہ و برباد ہو جاتا یے۔
اپنی بالادستی اور سینہ زوری کے زلف و کاکل سجانے میں یہاں ہر کوئی محو دکھائی دے رہا ہے۔ چاہے فیشن کی دوڑ میں یا چاہے کسی اور چیز میں ۔ مگر کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا کے مصداق یہ کوشش سدا بار آور ثابت نہیں ہوتی ہے اس میں ایسا لگتا ہے گویا کوئلوں کی دلالی میں ہاتھ پیر کالے ۔ یہی حال سماجی کمیٹئوں کا بھی ہو جاتا ہے کہ نااہل اور ناقابل لوگ اپنی لاٹھی سے سب کو ہانکتے ہو ئے نظر آتے ہیں جس سے سب بھاگم بھاگ میں لگ جاتے ہیں اور مسائل سلجھنے کی بجائے الجھتے ہی ہیں۔