مہتاب منیر
دھوپ میں ایک عجیب سی تپش تھی، ایسی تپش جو صرف جسم کو نہیں، روح کو جھلسا دیتی ہے۔ عدیل نے اپنے گلے میں بندھی ٹائی کی گرہ کو تھوڑا ڈھیلا کیا۔ اس کی آنکھوں میں تھکن کی سرخ لکیریں واضح تھیں۔ وہ پچھلے پانچ سالوں میں نہ جانے کتنے پرائیویٹ اسکولوں اور اداروں کی خاک چھان چکا تھا، لیکن آج کا تجربہ ماضی کے تمام تجربات سے مختلف اور کہیں زیادہ تکلیف دہ تھا۔
آج جس اسکول میں وہ انٹرویو دینے گیا تھا، وہاں امیدواروں کی بھیڑ میں ایک ایسا چہرہ بھی تھا جسے دیکھ کر عدیل کی آنکھیں حیرت اور احترام سے پھیل گئی تھیں۔ وہ “ڈاکٹر سلیم صاحب” تھے۔ عدیل کو اچھی طرح یاد تھا کہ جب اس نے یونیورسٹی میں ایم اے کے پہلے سمسٹر میں داخلہ لیا تھا، تب سلیم صاحب وہاں ایک نامور پی۔ ایچ۔ ڈی۔ اسکالر تھے۔ ان کا علمی رعب، مطالعہ اور گفتگو کا انداز عدیل جیسے جونیئرز کے لیے ایک مشعلِ راہ تھا۔
لیکن آج؟ آج وہ اسی پرائیویٹ اسکول کے تنگ اور گھٹن زدہ ویٹنگ روم میں، پندرہ ہزار روپے ماہوار کی ایک عارضی نوکری کے لئے عدیل کے برابر والی کرسی پر بیٹھے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ وقت نے علم کی مسند کو بے بسی کے فٹ پاتھ پر لا کھڑا کیا تھا۔
انٹرویو ختم ہوا تو دونوں اکٹھے باہر نکلے۔ باہر کی سڑک پر چلتے ہوئے دونوں کے درمیان ایک طویل، بوجھل خاموشی تھی، جسے آخر کار سلیم صاحب کی ایک گہری آہ نے توڑا۔
عدیل میاں! ڈگریوں کا وزن اٹھانا اب مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ سلیم صاحب کی آواز میں برسوں کی محرومی کا زہر گھلا ہوا تھا۔ “انٹرویو لینے والا پچیس سالہ لونڈا مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ کیا میں بچوں کو چپ کرانے کی اہلیت رکھتا ہوں؟ میری بیس سالہ تحقیق، میری کتابیں، میرا علم… سب اس ایک سوال کے سامنے ڈھیر ہو گیا۔
عدیل خاموش رہا۔ اس کے پاس کہنے کو کچھ تھا ہی نہیں…. وہ خود بھی اسی چکی میں پس رہا تھا۔
دوپہر ڈھل چکی تھی اور بھوک کے مارے دونوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے تھے۔ جیبیں اتنی ہلکی تھیں کہ کسی ڈھنگ کے ہوٹل میں بیٹھنا محال تھا۔ سڑک کے کنارے ایک اسٹریٹ فوڈ والے کی ریڑھی سے تلے ہوئے آلو چپس کی خوشبو آرہی تھی۔ دونوں بلا اختیار وہاں رک گئے۔
“بھائی، پچاس روپے کے تلے ہوئے آلو دینا،”عدیل نے اپنی جیب سے روپے نکالتے ہوئے کہا۔
ریڑھی والے نے جلدی سے نیچے رکھے ردی کاغذوں کے ڈھیر سے ایک کاغذ اٹھایا، اسے مہارت سے موڑ کر اس میں گرم گرم آلو ڈالے، اوپر سے مصالحہ چھڑکا اور عدیل کے ہاتھ میں تھما دیا۔
عدیل نے گرم آلو سلیم صاحب کی طرف بڑھائے۔ سلیم صاحب نے مسکرا کر ایک ٹکڑا اٹھایا۔ بھوک کے عالم میں وہ پہلا نوالہ حلق سے اتار ہی رہے تھے کہ عدیل کی نظر اچانک اس کاغذ پر پڑی جس میں آلو لپیٹے گئے تھے۔
اس کاغذ پر چکنائی کے دھبے تیزی سے پھیل رہے تھے، لیکن اس پر چھپے ہوئے لفظ اب بھی بالکل واضح تھے۔ سب سے اوپر جلی حروف میں لکھا تھا
“تعلیمی کوائف”
(Curriculum Vitae)
عدیل کا دل جیسے ایک لمحے کے لئے دھڑکنا بھول گیا۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے اس کاغذ کو سیدھا کیا اور پڑھنے لگا۔ نیچے نام لکھا تھا: عدیل احمد۔ اس کے نیچے اس کی ایم اے کی ڈگری، بی۔ایڈ اور پچھلی نوکریوں کا تجربہ درج تھا۔
یہ عدیل کا اپنا جاب ریذوم تھا… وہی ریذوم جو وہ ایک ہفتہ پہلے اسکول کے پرنسپل کے آفس میں جمع کرا کے آیا تھا۔
سلیم صاحب نے عدیل کے چہرے کا اڑتا ہوا رنگ دیکھا تو چونک گئے، کیا ہوا عدیل؟
عدیل نے بنا کچھ کہے وہ کاغذ سلیم صاحب کے سامنے کر دیا۔ سلیم صاحب نے جب اسے دیکھا، تو ان کے ہاتھ سے آلو کا ٹکڑا وہیں مٹی میں گر گیا۔ انہوں نے اس ردی کے ڈھیر کی طرف دیکھا جہاں سے ریڑھی والے نے وہ کاغذ اٹھایا تھا۔ وہاں پرائیویٹ اسکول کا مونوگرام چھپے کئی اور کاغذات پڑے تھے، جن میں شاید ڈاکٹر سلیم کی پی ایچ ڈی کی تھیسس کا خلاصہ اور ان کا بائیو ڈیٹا بھی شامل تھا۔
انٹرویو ختم ہوتے ہی، چپراسی نے ان کے خوابوں، ان کی راتوں کو جاگ کر حاصل کی گئی ڈگریوں اور ان کی عزتِ نفس کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا تھا، جو چند روپوں کے عوض اس ریڑھی والے کو بیچ دی گئی تھی۔
ریڑھی والا گاہکوں کو بھگانے میں مصروف تھا، اور وہاں فٹ پاتھ پر، علم اور شعور کے دو مینار سر جھکائے کھڑے تھے۔
سلیم صاحب کی آنکھوں سے ایک آنسو ٹپکا اور عدیل کے ریذوم پر لکھی اس کی تعلیمی قابلیت کے اوپر جا گرا۔ چکنائی اور آنسوؤں نے مل کر عدیل کے نام کو دھندلا دیا تھا۔ عدیل میاں… سلیم صاحب نے کانپتی ہوئی دھیمی آواز میں کہا، “ہم جن کاغذوں کو اپنی تقدیر سمجھتے تھے نا…. معاشرے نے آج بتا دیا کہ ان کی اوقات صرف اتنی ہے کہ ان پر چپس رکھ کر کھائے جائیں”۔
عدیل نے کچھ نہیں کہا۔ اس نے وہ کاغذ خاموشی سے موڑا اور اپنی جیب میں رکھ لیا۔ وہ شاید سوچ رہا تھا کہ بھوک صرف پیٹ کی نہیں ہوتی، اصل بھوک اس نظام کی ہے جو انسان کی غیرت اور علم کو چبا کر تھوک دیتا ہے!!! دونوں چپس وہیں چھوڑ کر آگے بڑھ گئے۔ سڑک پر پگھلتی ہوئی تارکول کی تیز، تلخ خوشبو پھیلی ہوئی تھی، جس میں ان کے خوابوں کے جلنے کی بو شامل ہو چکی تھی۔ اس تپتی ہوئی سڑک پر چلتے ہوئے عدیل کی ضبط کی دیوار آخری کار ٹوٹ گئی۔ اس کی آنکھوں سے ابلنے والے گرم آنسو جب نیچے پگھلتے ہوئے سیاہ تارکول پر گرے، تو تپش اتنی زیادہ تھی کہ آنسو،خوابوں کا دھواں بن کر اس کے سامنے ہوا میں تحلیل ہو رہا تھا۔ ارد گرد ماحول میں ایک عجیب سی آگ لگی تھی۔۔۔۔ مستقبل کے اندیشوں کی آگ؟ معاشرے کی بے حسی کی؟ یا پیٹ کی بھوک کی آگ …! عدیل اس چومکھی آگ کے درمیان اپنے تڑپتے ہوئے جذبات، اپنی چیخوں اور اپنی بے بسی کو اندر ہی اندر دباتے ہوئے، سر جھکائے بس بھاگے جا رہا تھا….
���
لولاب، کپوارہ ، کشمیر