تیزی سے بدلتی دنیا میں نئی مہارتیں حاصل کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت:ایل جی منوج سنہا
عظمیٰ نیوزسروس
جموں // لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ ہمیں ایسا مستقبل تعمیر کرنا ہوگا جہاں سائنس ترقی کا ذریعہ بنے اور انسانیت اس کی سمت کا تعین کرے۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے روزگار کے شعبے اور معیشت کی ساخت کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے، تاہم اسے انسانی صلاحیتوں کا متبادل نہیں بلکہ ان کی استعداد میں اضافے کا مؤثر ذریعہ سمجھنا چاہیے۔وہ ڈاکٹر سریش اوستھی سمرتی نیاس، وارانسی کی جانب سے ڈاکٹر سریش اوستھی کےبیسویں یومِ وفات کے موقع پر منعقدہ یادگاری تقریب سے”مصنوعی ذہانت: اثرات اور مضر اثرات‘‘ کے موضوع پر کلیدی خطاب کر رہے تھے۔لیفٹیننٹ گورنر نے ڈاکٹر سریش اوستھی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ علم، انکساری اور دوراندیشی کی روشن مثال تھے، جنہوں نے سیاسیات کو سماجی تعمیر اور قومی استحکام کا مؤثر ذریعہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر اوستھی کی تعلیمات آج بھی نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ ہیں اور ان کے افکار کو قومی تعمیر میں بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔اپنے خطاب میں منوج سنہا نے کہا کہ مصنوعی ذہانت نے تعلیم، ملازمت، صحت، زراعت، صنعت اور حکومتی نظام سمیت زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جیسے پہیے، طباعت، بھاپ کے انجن، بجلی، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نے انسانی تاریخ کا رخ موڑا، اسی طرح مصنوعی ذہانت ایک نئے دور کا آغاز ہے۔انہوں نے کہا کہ آج دور دراز دیہات میں بھی مصنوعی ذہانت لوگوں کی زندگی بدل رہی ہے۔ صحت کارکن جدید طبی جانچ کر رہے ہیں، کسان فوری طور پر موسم اور فصلوں سے متعلق مشورے حاصل کر رہے ہیں جبکہ طلبہ اپنی مادری زبان میں معیاری تعلیم تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ہندوستان صدیوں سے علم، اختراع اور انسان دوستی کا علمبردار رہا ہے اور ہماری تہذیب نے دنیا کو یہ سبق دیا ہے کہ سائنس اور اخلاقیات ایک دوسرے کی مخالف نہیں بلکہ تکمیل کرنے والی قوتیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ اس کے درست اور ذمہ دارانہ استعمال کو بھی یقینی بنانا ہماری ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر بڑی تکنیکی تبدیلی اپنے ساتھ کچھ چیلنجز بھی لاتی ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ترقی کا سفر کبھی نہیں رکتا۔ مصنوعی ذہانت انسانی صلاحیتوں کو کمزور نہیں بلکہ انہیں مزید مؤثر بنانے کا ذریعہ ہے، کیونکہ یہ معمول کے دہرائے جانے والے کام انجام دے کر انسان کو تخلیقی سوچ، اختراع اور اہم فیصلوں پر توجہ دینے کا موقع فراہم کرتی ہے۔منوج سنہا نے کہا کہ ہر تکنیکی انقلاب کچھ پرانے مواقع ختم کرتا ہے لیکن نئے امکانات بھی پیدا کرتا ہے، اس لیے تیزی سے بدلتی دنیا میں نئی مہارتیں حاصل کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ڈیپ فیک مواد کے خطرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے حقیقت اور جھوٹ میں فرق کرنا مشکل ہو رہا ہے، لہٰذا شفافیت اور عوامی اعتماد کو ہر حال میں برقرار رکھنا ضروری ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت کو ایک موقع سمجھتے ہوئے مسائل کے حل، تنقیدی سوچ اور سائنسی مزاج کو فروغ دیں۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا بھر کا علم ہماری ہتھیلی پر موجود ہے، اس لیے مستقبل انہی لوگوں کا ہوگا جو علم کو مثبت مقاصد کے لیے استعمال کریں گے، مختلف خیالات کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور اخلاقی فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے سکولوں اور جامعات میں سائنس اور سنسکارکے درمیان توازن پیدا کرنا ہوگا، تاکہ تکنیکی مہارت کے ساتھ ساتھ تخلیقی صلاحیت، مؤثر ابلاغ، ہمدردی اور سماجی ذمہ داری کو بھی یکساں اہمیت دی جا سکے۔