عظمیٰ نیوزسروس
مینڈھر // اپنی پارٹی کے سربراہ سید محمد الطاف بخاری اور سینئرنائب صدر غلام حسن میر نے اس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر کے اہم مسائل، بالخصوص ریاستی درجے کی بحالی اور جموں و کشمیر کے عوام اور ملک کے دیگر حصوں کے درمیان موجود اعتماد کے فقدان کو دور کرنے کے لیے مرکز اور جموں و کشمیر کے عوام کے درمیان مذاکرات ناگزیر ہیں۔دونوں رہنما پونچھ کے مینڈھر میں منعقدہ کارکنوں کی ایک میٹنگ سے خطاب کر رہے تھے۔ اس میٹنگ کا اہتمام پارٹی ترجمان اور حلقہ انچارج مینڈھر رقیق خان نے کیا تھا۔اپنے خطاب میں سید محمد الطاف بخاری نے کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ واپس دلانے کا مطالبہ محاذ آرائی کے بجائے مرکز کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔وہ دلی کے جنتر منتر پر برسراقتدار جماعت کی جانب سے مجوزہ دھرنے کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔انہوں نے کہا، ’’ریاست کا درجہ ناگزیر ہے۔ درحقیقت یہ جموں و کشمیر کے عوام کے وقار اور عزت کا معاملہ ہے۔ تاہم، یہ صرف حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، محاذ آرائی سے نہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’صرف ریاست کا درجہ عوام کے مسائل حل نہیں کرے گا۔ عوام کو روزگار کے مواقع درکار ہیں۔ انہیں بے روزگاری، غربت، بھوک، پسماندگی اور دیگر مسائل سے نجات چاہیے، لیکن یہ بے حس حکومت ان سنگین مسائل پر کوئی توجہ نہیں دے رہی، بلکہ ریاست کے درجے کے مطالبے کی آڑ میں اپنی ناکامیوں کو چھُپانے کی کوشش کررہی ہے۔‘‘بخاری نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں تک جموں و کشمیر پر حکومت کرنے والے لیڈران عوام کو وہ مؤثر اور جوابدہ طرزِ حکمرانی فراہم کرنے میں ناکام رہے جس کے لوگ مستحق تھے۔انہوں نے جموں و کشمیر کے عوام کو درپیش مسائل اور مشکلات کا ذمہ دار مرکزی حکومت کو بھی قرار دیتے ہوئے کہا، ’’نئی دہلی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے عوام پر ایسی قیادت مسلط کی جو کبھی بھی ان کے مسائل کو مؤثر انداز میں حل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی تھی، بلکہ ان کی دلچسپی صرف اقتدار حاصل کرنے اور اسے برقرار رکھنے میں تھی۔‘‘انہوں نے کہا، ’’اقتدار کی خاطر ان رہنماؤں نے مرکز کی جانب سے 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کو منسوخ کیے جانے سے بہت پہلے ہی اسے اندر سے کھوکھلا کر دیا تھا۔‘‘5اگست 2019کے واقعات پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’دفعہ 370کو ہمارے لیڈران نے ویسے بھی کھوکھلا کردیا تھا۔ لیکن مرکز کی آنکھ میں یہ کھوکھلا دفعہ 370بھی کھٹکتا تھا۔ مرکز کو جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات سے زیادہ ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے خواب کو پورا کرنے کی فکر تھی۔ حالانکہ یہاں کے عوام نے بہتر مستقبل کی امید میں ہندوستانی جمہوریت کا انتخاب کیا تھا، مگر ان سے ان کی شناخت چھین لی گئی اور ان کی ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ آخر ہمارا قصور کیا تھا؟‘‘اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے سینئر نائب صدر غلام حسن میر نےایک بار پھر مطالبہ کیا کہ مرکز جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرے۔انہوں نے کہا، ’’ہم وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام، خصوصاً نوجوانوں، کے ساتھ بامعنی مذاکرات کریں۔ انہوں نے امن اور ترقی کا راستہ اختیار کیا ہے، لیکن ان کی بات بھی سنی جانی چاہیے۔ عوام کے ساتھ مکالمہ ہی جموں و کشمیر کے عوام اور ملک کے دیگر حصوں کے درمیان اعتماد کے فقدان کو دور کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ اس لیے ہم مرکز سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ بامعنی مذاکرات کا آغاز کرے۔‘‘