عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/جموں و کشمیر پولیس کے کرائم برانچ کشمیر کے اکنامک آفینسز ونگ (EOW) نے بدھ کے روز بتایا کہ اس نے کپواڑہ میں مشترکہ آبائی اراضی کو مبینہ طور پر جعلسازی کے ذریعے اپنے نام منتقل کرنے کے معاملے میں ایک سابق پٹواری، جو اس وقت نائب تحصیلدار کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے، کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ پیش کر دی ہے۔
کرائم برانچ کے ترجمان نے جاری بیان میں کہا کہ اکنامک آفینسز ونگ، کرائم برانچ کشمیر نے ایف آئی آر زیر نمبر33/2021زیر دفعات167، 417، 466 اور 468 (آر پی سی ) کے تحت لیاقت علی خان ولد محبوب اللہ خان، ساکن باباپورہ ہائی ہامہ، کپواڑہ، جو اس وقت نائب تحصیلدار اور وقوعہ کے وقت پٹواری تھے، کے خلاف سب جج/جوڈیشل مجسٹریٹ درجہ اول ، کپواڑہ کی عدالت میں چارج شیٹ دائر کی ہے۔
بیان کے مطابق یہ مقدمہ ایک شکایت کی بنیاد پر درج کیا گیا تھا، جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ حلقہ ہائی ہامہ/گنڈی سانہ کی مشترکہ آبائی اراضی کو جعلسازی کے ذریعے ملزم اور اس کے بھائی کے حق میں منتقل کرنے کے لیے ریونیو ریکارڈ میں رد و بدل کیا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ ملزم نے بطور پٹواری اپنے سرکاری عہدے کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے خسرہ گرداوری کے رجسٹروں میں جعلی اندراجات کیے، سرکاری ریکارڈ کے صفحات تبدیل کیے اور ریونیو دستاویزات میں جعلسازی کر کے زمین کی ملکیت اور قبضے کے بارے میں غلط تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ ریونیو محکمہ کی بروقت اصلاحی کارروائی کے باعث مبینہ طور پر زمین پر ناجائز ملکیت حاصل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی، تاہم تحقیقات کے دوران آر پی سی کی دفعات 167، 417، 466 اور 468کے تحت جرم کے کافی شواہد سامنے آئے۔ اسی بنیاد پر ملزم کے خلاف چارج شیٹ متعلقہ عدالت میں عدالتی کارروائی کے لیے پیش کی گئی ہے۔
کپواڑہ میں ریونیو ریکارڈ میں مبینہ جعلسازی: سابق پٹواری کے خلاف چارج شیٹ پیش