عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر کی مختلف سماجی تنظیموں کے 150 سے زائد نمائندوں نے ایک اہم ترین اجلاس کے دوران متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی ہے، جس میں مرکزی حکومت سے جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ فوری طور پر بحال کرنے کا پرزور مطالبہ کیا گیا ہے۔ریاست کی حکمراں جماعت ’نیشنل کانفرنس‘کی جانب سے نئی دہلی میں مجوزہ احتجاجی مظاہرے سے ٹھیک دو ہفتے قبل منگل کے روز یہ اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس بیٹھک کی صدارت نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور پارٹی کے نائب صدر و وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مشترکہ طور پر کی۔نیشنل کانفرنس کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہےایوان نے متفقہ طور پر ایک قرارداد پاس کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے بنا کسی تاخیر کے جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کی اپیل کی ہے۔ یہ قرارداد اجلاس میں موجود تمام سماجی تنظیموں کے نمائندوں کی اجتماعی اور یک زبان آواز کی عکاسی کرتی ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر کی سماجی تنظیموں کے نمائندوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘(سابقہ ٹویٹر) پر لکھا۔یہ اجلاس انتہائی نتیجہ خیز رہا اور ڈاکٹر صاحب (فاروق عبداللہ) کو عوامی نمائندوں سے متعدد اہم تجاویز اور آراء موصول ہوئیں۔اجلاس میں متفقہ قرارداد کے ذریعے مرکزی حکومت کو اس کا وعدہ یاد دلایا گیا ہے کہ وہ مزید تاخیر کیے بغیر جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرے۔واضح رہے کہ نیشنل کانفرنس پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے پہلے ہی دن، یعنی 20 جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر ایک عظیم الشان احتجاجی مظاہرہ کرنے جا رہی ہے۔ پارٹی اس مظاہرے میں شرکت کے لیے’انڈیا‘اتحاد کے رہنماؤں سمیت جموں و کشمیر کی دیگر سیاسی قیادت کو بھی مدعو کرنے کی حکمت عملی تیار کر رہی ہے تاکہ مرکز پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔
جموں و کشمیر کی سماجی تنظیموں کا اجلاس: مکمل ریاست کا درجہ بحال کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور