حال و احوال
جعفر حسین ماپکر
ایک طویل عرصے سے ہمارے سماجی شعور اور معاشرتی اقدار میں، بچوں کی کامیابی کا معیار صرف دو ہی شعبوں کو مانا گیاہے۔ طب (Medicine) اور انجینئرنگ ،ہر سال لاکھوں نوجوان آنکھوں میں روشن خواب سجائے اور دلوں میں بے پناہ عزم لیے ان امتحانات کے کٹھن میدان میں اُترتے ہیں۔نیٹ (NEET) کے فولادی مراحل کو پار کرنے والے میڈیکل کے طُلبہ ہوں یا دن رات پیچیدہ فارمولوں کی گُتھیوں میں اُلجھے انجینئرنگ کے نوجوان، دونوں کی ذہانت، محنت اور ٹیلنٹ پر کوئی اُنگلی نہیں اُٹھائی جا سکتی، لیکن المیہ یہ ہے کہ جب یہی ہونہار طُلبہ، عالمی اُفق پر قدم رکھتے ہیں، یا عملی زندگی کی دہلیز کو چُھوتے ہیں، تو ایک دردناک تضاد سامنے آتا ہے۔میڈیکل کے طلبہ بین الاقوامی امتحانات کی دیواروں سے ٹکرا کر زخمی ہوتے نظر آتے ہیں اور انجینئرنگ کے نوجوان ’’بلیو رینک‘‘ یعنی شدید ذہنی مایوسی، اُکتاہٹ اور بیزاری کی دلدل میں دھنس جاتے ہیں۔ میری تحریر ان بچوں کی جد وجہد کے نام ہے۔میری کوشش تعلیمی میڈئیم کے تضاد، اور اس کی تہہ میں چُھپے، اصل اسباب اور تعلیمی نظام کی ناکامیوں کا ایک تحقیقی اور تنقیدی آئینہ و جائزہ ہے۔
قارئین پہلے ہم نیٹ (NEET) کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، یہ کیا ہے اور ہمارے بچوں کے لئے یہ اشد ضروری کیوں ہے؟ کیا یہ امتحان، طلبا و طالبات کے لئے منصفانہ بھی ہے؟ آگے بڑھنے سے پہلے، آئیے اس امتحان کے ڈھانچے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، جو لاکھوں بچوں کی قسمت کا فیصلہ کرتا ہے۔نیٹ (NEET) دراصل، National Eligibility cum Entrance Test کا مخفف ہے۔ایک قومی سطح کا امتحان: یہ پورے ہندوستان میں میڈیکل کے داخلوں کے لیے ایک واحد اور مشترکہ داخلہ امتحان ہے۔اس امتحان کا مقصد داخلہ کے عمل کو شفاف بنانا اور میرٹ (Merit) پر صرف لائق طلباء کا انتخاب کرنا ہوتا ہے تاکہ بدعنوانی اور ڈونیشن کا خاتمہ ہو سکے۔یہ امتحان ایم بی بی ایس (MBBS)، بی ڈی ایس (BDS)، اور آیوش (AYUSH جیسے کہ BAMS، BHMS وغیرہ) کورسز میں داخلے کے لیے لازمی ہے۔اب رہا سوال انجنئیرنگ کا تو جیل JEEL/ جوائنٹ اینٹرنس ایگزامینیشن اور ایڈوانسڈ (JEE-Advanced) بھارت میں ہر سال منعقد ہونے والا ایک تعلیمی مسابقتی انجینئرنگ کا امتحان ہے، جو امیدواروں کی فزکس (طبیعیات)، کیمسٹری (کیمیا)، اور میتھمیٹکس (ریاضی) میں مہارت اور علم کا امتحان لیتا ہے۔جی کورسز (جیسے کہ B.Tech اور BE) کے لیے JEE کا امتحان ہوتا ہے، جس کے ذریعے IITs، NITs اور ملک کے دیگر بہترین انجینئرنگ اداروں میں داخلہ ملتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ امتحان ہمارے طلبہ کی راتوں کی نیند اور خون پسینے کی کمائی کے ساتھ انصاف کر پاتا ہے؟ یہ وہ حساس سوال ہے جو ہر سال امتحانی نتائج کے بعد لاکھوں والدین، اساتذہ اور خود طلبہ کے دلوں کو جھنجھوڑتا ہے۔ اگر ہم جذباتی عینک اتار کر حقیقت کی زمین پر کھڑے ہو کر دیکھیں، تو جواب انتہائی مایوس کُن ہے۔ ہمارا امتحانی نظام طلبہ کی ’’کوشش اور رٹنے کی سکت‘‘ کو تو ناپتا ہے، لیکن ان کی ’’حقیقی طبی صلاحیت اور تخلیقی ذہانت‘‘ کے ساتھ انصاف کرنے سے قاصر ہے۔ایسا کیوں ہے، اس کی چند بُنیادی وجوہات میرے سمجھ میں تو یہی آتی ہے۔
۱۔ خوابوں کا قتل اور اعشاریوں(Decimals) کا جُوا: جس امتحان میں محض 0.01 \% نمبروں کے معمولی فرق سے ایک طالب علم کا پورا سال برباد ہو جائے یا اس کے خوابوں کا کالج اس سے چھن جائے، اسے کسی بھی صورت منصفانہ نہیں کہا جا سکتا۔ 20 سے 25 لاکھ طلبہ کے سمندر میں سے چند ہزار سرکاری نشستوں کا انتخاب کرنا محنت کا نہیں، بلکہ’’ بے عیب کارکردگی‘‘(Perfection) کا امتحان بن چکا ہے۔انسان خطا کا پتلا ہے۔ امتحان کے ان مخصوص تین گھنٹوں میں معمولی سا ذہنی دباؤ یا OMR یعنی ( optical mark recognition) شیٹ کا صرف ایک ببل (Bubble) غلط بھر جانا کسی بھی ہونہار بچے کا پورا مستقبل خاک میں ملا دیتا ہے۔ یہ انصاف نہیں، سراسر جؤا ہے۔
۲۔ ’’حفظِ معلومات ‘‘کا غلبہ، اور ’’طبی سوچ‘‘ کا فقدان: ایک بہترین ڈاکٹر بننے کے لیے انسان کے اندر ہمدردی، گہرا کلینکل تجزیہ (Clinical Reasoning)اور شدید دباؤ میں دُرست فیصلہ لینے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔لیکن نیٹ کا ترازو صرف یہ تولتا ہے کہ آپ کو(National Council of Educational Research and Training)NCERT کی لائنیں کتنی زبانی یاد ہیں اور آپ کتنی تیزی سے فارمولے اُگل سکتے ہیں۔نیٹ (NEET) کے حالیہ امتحانات میں پرچہ لیک ہونے، گریس مارکس اور شفافیت کے فقدان جیسے مسائل کے باعث اس بات پر شدید تنقید کی جا رہی ہے کہ موجودہ نظام طلبہ کی اصل صلاحیت اور قابلیت کی تشخیص(Evaluation) کرنے میں ناکام رہا ہے. یہ نظام ایک ’’مفکر اور مسیحا‘‘کے بجائے ’’رٹہ مارنے والی مشین‘‘ تیار کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔
۳۔ کوچنگ مافیا اور معاشی ناہمواری: کیا نیٹ واقعی صرف قابلیت کا امتحان ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اب یہ ’’معاشی حیثیت ‘‘کا مقابلہ بن چکا ہے۔ ‘کوٹا (Kota) جیسے کوچنگ ہبز اور مہنگی آن لائن و آف لائن کلاسز کی فیسیں کسی غریب یا مڈل کلاس باپ کے بس کی بات نہیں ہوتیں۔ہسپتالوں کے خواب دیکھنے والے ایک عام سرکاری اسکول کے محنتی بچے کا مقابلہ اس امیر بچے سے ہوتا ہے جس کے پاس لاکھوں روپے کے وسائل، بہترین اساتذہ اور پرسنل ٹرینرز موجود ہوتے ہیں۔ یہ نظام اپنی جڑ سے ہی ناہمواری پر مبنی ہے۔
۴۔ ذہنی صحت کی قیمت پر کامیابی: جو امتحان نوجوانوں کو ڈپریشن، شدید اعصابی تناؤ اور (خدا نخواستہ) خودکشی جیسے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر دے، وہ نظام منصفانہ کہلانے کا حق کھو دیتا ہے۔ کامیابی کی قیمت اگر طالب علم کا ذہنی سکون، اس کی مسکراہٹ اور اس کی زندگی ہو، تو یہ محنت کا اعتراف نہیں بلکہ نوجوان نسل پر منظم ظلم ہے۔
حصہ اول ۔میڈیکل کے طلبہ اور عالمی معیار کا تضاد: اس میں کوئی شک نہیں کہ نیٹ (NEET) دنیا کے مشکل ترین مقابلوں میں سے ایک ہے اور اسے پاس کرنے والے طلبہ غیر معمولی صلاحیت کے مالک ہوتے ہیں۔ لیکن المیہ دیکھیے کہ جب یہی ڈاکٹرز امریکہ کے USMLE، برطانیہ کے PLAB/UKMLA یا آسٹریلیا کے AMC جیسے بین الاقوامی امتحانات میں بیٹھتے ہیں، تو ان کی ایک بڑی تعداد کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے. (قارئین، آپ ان امتحانات کا فل فارم گوگل سے حاصل کرسکتے ہیں.) اس تضاد کے پیچھے تین بنیادی اسباب ہیں۔
۱۔ رٹا بمقابلہ کلینیکل ایپلی کیشن (Clinical Application): ہمارا امتحانی نظام “معلومات کے ذخیرے” کا امتحان لیتا ہے؛ جو جتنا زیادہ یاد رکھ سکتا ہے، وہ اتنا ہی کامیاب ہے۔اس کے برعکس، عالمی امتحانات یہ نہیں دیکھتے کہ آپ کو کتنی کتابیں زبانی یاد ہیں، بلکہ وہ یہ جانچتے ہیں کہ آپ مریض کی تشخیص کیسے کرتے ہیں۔اپنے علم کو ایک زندہ انسان (مریض) پر کیسے نافذ کرتے ہیں. وہاں سوالات طویل کیس اسٹڈییز (Case-based Scenarios) کی شکل میں ہوتے ہیں، جہاں صحیح تشخیص، اور تجویز جیت جاتی ہے اور کتابی رٹا دم توڑ دیتا ہے اور صرف گہرا تصّور (Concept) ہی کام آتا ہے۔
۲۔ مواصلاتی مہارت (Communication Skills) اور اخلاقیات کا فقدان: مغربی طبی نظام میں جتنا اہم بیماری کا علاج ہے، اتنا ہی اہم مریض کے ساتھ ڈاکٹر کا رویہ ہے۔ ہمارے نصاب میں میڈیکل ایتھکس (Medical Ethics) اور مریض و اس کے لواحقین سے گفتگو کے سلیقے کو نہ ہونے کے برابر پڑھایا جاتا ہے۔عالمی امتحانات میں اگر ایک ڈاکٹر مریض کو ہمدردی سے بُری خبر سُنانے یا اس کی نفسیاتی کیفیت کو سمجھنے میں ناکام رہے، تو اسے فوری فیل کر دیا جاتا ہے، خواہ وہ کتنا ہی بڑا تھیوریٹیکل جینیئس کیوں نہ ہو۔
۳۔ رفتار اور گہرے تجزیے کا فرق نیٹ (NEET) رفتار (Speed) کا امتحان ہے، جہاں کم وقت میں زیادہ سے زیادہ سوالات حل کرنے ہوتے ہیں. جبکہ عالمی امتحانات گہرا تجزیہ (Deep Analysis) مانگتے ہیں، جہاں ایک ایک سوال کو سمجھنے اور بہترین طبی فیصلے تک پہنچنے کے لیے فکری سکون کی ضرورت ہوتی ہے، جس کی ٹریننگ ہمارے طلبہ کو کبھی دی ہی نہیں جاتی۔
حصہ دوم ۔ انجینئرنگ کے طلبہ اور ’’بلیو رینک‘‘ کا المیہ: دوسری طرف ، انجینئرنگ کے طلبہ کا منظرنامہ مختلف مگر اتنا ہی دردناک ہے۔ ’’بلیو رینک‘‘ ہو جانا دراصل اس شدید ذہنی تناؤ، مایوسی(Frustration) اور بیزاری کی علامت ہے جو طالب علم کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں۔
۱۔ تخلیق کا قتل اور تھیوری کا بوجھ: انجینئرنگ بنیادی طور پر تخلیق، ندرت اور نئی ٹیکنالوجی کی ایجاد کا نام ہے۔ طلبہ اس شوق میں اس شعبے کا انتخاب کرتے ہیں کہ وہ کچھ نیا تخلیق کریں گے، لیکن کالج پہنچتے ہی انہیں موٹی کتابوں، پرانے جرنلز اور اکیڈمک اسائنمنٹس کے لامتناہی بوجھ تلے دبا دیا جاتا ہے۔ جب ان کا تخلیقی ذہن صرف ’’کاغذی پراجیکٹس‘‘ اور ’’رٹے ہوئے فارمولوں‘‘ تک محدود ہوجاتا ہے، تو وہ ذہنی پسماندگی (Burnout) کا شکار ہو جاتے ہیں۔
۲۔ گریڈز کی اندھی دوڑ (CGPA, Cumulative Grade Point Average کا خوف): معاشرے اور کارپوریٹ کمپنیوں نے کامیابی کا معیار صرف CGPA کو بنا دیا ہے۔ایک طالب علم چوبیس گھنٹے اسی خوف میں جیتا ہے کہ اگر اس کا پوائنٹر کم ہو گیا تو وہ کیمپس پلیسمنٹ کی دوڑ سے باہر ہوجائے گا۔ یہ مسلسل خوف ان کی راتوں کی نیند اور ذہنی سکون چھین لیتا ہے۔
۳۔ مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال اور معاشی دباؤ : لاکھوں روپے فیس دینے کے بعد بھی جب فائنل ایئر کے طلبہ مارکیٹ کی طرف دیکھتے ہیں تو انہیں نوکریوں کی قلت یا انتہائی کم تنخواہوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ معاشی غیر یقینی صورتحال ان کے اندر ایک شدید قسم کی انزائٹی (Anxiety) پیدا کرتی ہے کہ کیا ان کی اتنی محنت کا صلہ صرف چند ہزار کی نوکری ہے؟
توازن اور حل: تعلیمی نظام کی تبدیلی وقت کی ضرورت ہے۔اگر ہم ان دونوں مسائل کو یکجا کر کے دیکھیں، تو جڑ ایک ہی نکلتی ہے۔ ہمارا فرسودہ تعلیمی نظام۔ ہم آج بھی اکیسویں صدی کے ڈیجیٹل طلبہ کو بیسویں صدی کے نصاب اور انیسویں صدی کے طریقوں سے پڑھا رہے ہیں۔
مستقبل کی راہِ عمل، اور اصلاحات: میڈیکل کی سطح پر نصاب میں کلینیکل ٹریننگ، اخلاقیات اور کمیونیکیشن اسکلز کو لازمی اور عملی حصہ بنایا جائے۔ امتحانات کو صرف ایم سی کیوز (MCQs) رٹنے کے بجائے کیس اسٹڈیز پر مبنی کیا جائے انجینئرنگ کی سطح پر کتابی بوجھ کو کم کر کے پریکٹیکل انڈسٹری ایکسپوژر (Industry Exposure) بڑھایا جائے۔ طلبہ کی ذہنی صحت کے لیے کالجوں میں کونسلنگ سینٹرز قائم کیے جائیں اور گریڈز کے بجائے ہنر (Skills) کو ترجیح دی جائے۔
حاصلِ کلام: ہمارے ڈاکٹرز اور انجینئرز عالمی معیار پر پورا اُترنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں، اور اس کی گواہی دُنیا بھر کے وہ ہسپتال اور ٹیک کمپنیاں دے رہی ہیں جو ہمارے ٹیلنٹ کے دم پر چل رہی ہیں۔لیکن جو طلبہ فیل یا ’’بلیو رینک‘‘ ہو رہے ہیں، وہ ان کی ذاتی نالائقی نہیں، بلکہ نظام کی ناکامی ہے۔جس دن ہم نے اپنے نوجوانوں کو ’’رٹہ مارنے والی مشین‘‘ کے بجائے ’’تخلیقی اور تجزیاتی انسان‘‘ بنانا شروع کر دیا، اس دن ہمارے طلبہ نہ تو عالمی امتحانات میں فیل ہوں گے اور نہ ہی ذہنی مایوسی کا شکار ہوں گے۔ ورنہ صورتحال یہی رہے گی کہ ان بچوں کو دو دو، چار چار سال باہر کے ملکوں میں دھکے کھا کر، دوبارہ پڑھ کر وہاں کے امتحانات پاس کرنے ہوں گے، تب جاکر انہیں معاشی طور پر خود کفیل ہونے کا موقع ملے گا۔ یہ وقت مصلحت کا نہیں، بلکہ سرکاری اداروں سے گزارش کا ہے کہ وہ اپنے تعلیمی نظام پر نظر ثانی کریں اور جہاں تک ہوسکے اسے عالمی معیار کے مطابق بنائیں۔
��������������������