میر شوکت
ڈل جھیل کے کنارے اُس صبح کا منظر ایسا تھا جیسے فطرت نے رات بھر جاگ کر اپنی سب سے حسین تصویر مکمل کی ہو۔ زبرون کے پہاڑ دُھند کی سفید چادر اوڑھے خاموش کھڑے تھے۔ جھیل کا پانی آئینے کی مانند ساکت تھا اور اس پر تیرتی ہلکی دُھند یوں محسوس ہوتی تھی جیسے کسی درویش نے اپنی بوسیدہ چادر پانی پر بچھا دی ہو۔ دور ایک شکارہ خاموشی سے لہروں کو چیرتا گزر رہا تھا اور اس کے پیچھے بنتی لہریں وقت کے اُن نقوش کی طرح تھیں جنہیں تاریخ مٹاتی بھی ہے اور پھر نئے ناموں سے لکھ بھی دیتی ہے۔ہوا میں چنار کے پتوں کی سرسراہٹ گھلی ہوئی تھی۔ وہ عام آواز نہ تھی، بلکہ یوں لگتا تھا جیسے کسی قدیم کتب خانے میں ہزاروں برس پرانے مخطوطوں کے اوراق آہستہ آہستہ پلٹے جا رہے ہوں۔ انہی آوازوں کے تعاقب میں چلتے چلتے میں ایک ایسے چنارستان تک جا پہنچا جہاں درخت نہیں، کشمیر کی اجتماعی یادداشت ایستادہ تھی۔ ہر تنا ایک عہد، ہر شاخ ایک داستان اور ہر پتہ ایک زندہ گواہی تھا۔میرے سامنے چار چنار کھڑے تھے۔ایک بوڑھا چنار، جس کے تنے پر وقت نے اپنی پوری سرگزشت رقم کر رکھی تھی۔ایک درمیانی عمر کا چنار، جس نے مغلوں کی بہار بھی دیکھی تھی اور افغان و سکھ ادوار کی خزاں بھی۔
ایک نوجوان چنار، جس کی ہر شاخ میں زمانے پر ایک تازہ طنز لرزتا تھااور ایک چنار بی بی، جن کی شاخوں میں ماں کی ممتا، لال دید کا عرفان، نند ریشی کی درویشی اور حبہ خاتون کی اداسی ایک ساتھ بسی ہوئی تھی۔
میں نے ادب سے سلام کیا۔بوڑھے چنار نے اپنے زرد پتوں کو جنبش دی اور کہا۔’’وعلیکم السلام! اے لفظوں کے مسافر! آؤ، ہمارے سائے میں بیٹھو۔ انسانوں کی بستیوں میں آج کل ہر شخص بولنا چاہتا ہے، مگر سننے والا کوئی نہیں۔ شاید اسی لیے تم درختوں کے پاس آ گئے ہو، کیونکہ درخت نہ خوشامد کرتے ہیں، نہ جھوٹ بولتے ہیں، وہ صرف گواہی دیتے ہیں۔‘‘میں اس کے سائے میں بیٹھ گیا۔میں نے پوچھا۔’’ آپ کی اس سرزمین میں آمد کی داستان کیا ہے؟‘‘
بوڑھے چنار نے آسمان کی طرف دیکھا، جیسے یادوں کی کسی بہت دور کی منزل پر نگاہ جم گئی ہو۔’’بیٹا! ہماری پیدائش پر مؤرخ آج بھی ایک رائے نہیں رکھتے۔ بعض ہمیں ایران کے باغوں سے جوڑتے ہیں، کچھ سکندر اعظم کے سفر کا ساتھی قرار دیتے ہیں اور ایک معروف روایت یہ ہے کہ چودھویں صدی میں حضرت سید علی ہمدانی اور ان کے رفقا ہمیں اس وادی میں لائے۔ بعض قدیم روایات چترگام کے ایک چنار کو سید ابوالقاسم ہمدانی سے منسوب کرتی ہیں۔لیکن ایک حقیقت اس سے بھی بڑی ہے۔ ہماری جڑیں صرف روایت میں نہیں، اس مٹی میں بھی پیوست ہیں۔ برزہوم کی قدیم تہذیب اس وادی میں انسان اور فطرت کے ہزاروں برس پرانے تعلق کی گواہی دیتی ہے۔ کشمیری پنڈت ہمیں دیوی بھوانی کی نشانی سمجھتے رہے اور مسلمان شاہ ہمدان کی یادگار۔ ہم نے کبھی کسی عقیدے سے اختلاف نہیں کیا، کیونکہ درختوں کا مذہب سایہ اور ان کا مسلک سخاوت ہوتا ہے۔‘‘نوجوان چنار مسکرایا۔’’ہم پر آج تک کسی نے مقامی اور غیر مقامی کا مقدمہ نہیں چلایا۔ شاید اس لیے کہ ہم ووٹ نہیں دیتے، صرف سایہ دیتے ہیں۔‘‘
چنار بی بی نے ہنس کر کہ’’درختوں کی شہریت زمین طے کرتی ہے، سرحدیں نہیں۔‘‘
میں نے دوسرا سوال کیا۔’’آپ نے سب سے قدیم زمانہ کون سا دیکھا؟‘‘بوڑھے چنار کی آواز میں صدیوں کی گونج اتر آئی۔’’میں نے وہ زمانہ دیکھا جب انسان نے ابھی فطرت سے جنگ شروع نہیں کی تھی۔ پہاڑ عبادت گاہ تھے، دریا مقدس کتابیں اور ہوا سب کی مشترکہ زبان۔پھر اشوک آیا۔ اُس نے بدھ مت کو فروغ دیا، بستیاں آباد کیں اور علم کی شمع روشن کی۔ اس کے بعد کنشک آیا، جس نے کشمیر کو اپنی سلطنت میں شامل کیا اور یہاں وہ عظیم بودھی مجلس منعقد ہوئی جس میں اشوگھوش، ناگرجن اور وسومتر جیسے اہلِ دانش شریک ہوئے۔ اُس دور میں اختلافِ رائے علم کی وسعت سمجھا جاتا تھا، عداوت کی بنیاد نہیں۔‘‘
درمیانی چنار نے بات آگے بڑھائی۔’’پھر کارکوٹ خاندان کے للتادتیہ مکتی پیدا نے کشمیر کو عظمت بخشی۔ اس کے بعد اتپال اور لوہرہ ادوار میں کشمیر شیو فلسفے کا مرکز بن گیا۔ اسی فضا میں کلہن نے راج ترنگنی لکھی، جو صرف بادشاہوں کی تاریخ نہیں بلکہ اس سرزمین کی اجتماعی یادداشت ہے۔‘‘نوجوان چنار مسکرا کر بولا۔’’آج لوگ کتاب پڑھنے سے پہلے مصنف کا نظریہ پوچھتے ہیں، اُس زمانے میں دلیل پڑھی جاتی تھی۔‘‘
میں نے پوچھا۔’’صوفیوں اور مسلم دور کی سب سے روشن یاد کیا ہے؟‘‘چنار بی بی کی آواز میں عجیب سی لطافت اتر آئی۔’’1339ء میں شاہ میر نے ایک نئے دور کا آغاز کیا، مگر کشمیر کی اصل روح صوفیوں نے سنواری۔ سید علی ہمدانی اپنے رفقا کے ساتھ آئے تو صرف دین نہیں، ہنر بھی لائے۔ شال بافی، لکڑی کی نقش کاری، ریشم، کاغذ سازی اور دستکاری کی کئی روایتیں نئی زندگی پا گئیں۔اسی عہد میں لال دید نے اپنے واخ کہے۔ انہوں نے انسان کو مذہب سے پہلے انسان بننا سکھایا، پھر شیخ نورالدین نورانی، جنہیں نند ریشی کہا جاتا ہے، آئے اور محبت، سادگی اور اخوت کا چراغ روشن کیا۔‘‘بوڑھے چنار نے دھیرے سے کہا۔’’سلطنتیں تلوار سے بنتی ہیں، مگر تہذیب صرف علم، محبت اور برداشت سے پروان چڑھتی ہے۔‘‘
میں نے پوچھا۔’’زین العابدین کو بدشاہ کیوں کہا جاتا ہے؟‘‘درمیانی چنار کے چہرے پر روشنی پھیل گئی۔’’کیونکہ اس نے دل جیتنے کو حکومت سمجھا۔ اس نے فنکاروں، دستکاروں، علما اور کسانوں کو عزت دی۔ وسطی ایشیا اور ایران سے اہلِ فن کو بلایا، صنعتوں کو فروغ دیا اور رواداری کو اپنی حکومت کی بنیاد بنایا۔ اسی لیے تاریخ نے اسے صرف سلطان نہیں بلکہ بدشاہ کہا۔‘‘اسی لمحے میں نے ایک اور سوال کیا۔’’بابا! کیا آپ نے کبھی کوئی ایسا واقعہ بھی دیکھا جس نے دنیا کے اہلِ علم کو حیران کر دیا ہو؟‘‘
بوڑھے چنار نے دور شمال کی طرف دیکھا۔’’ہاں۔ 1931ء میں گلگت کے قریب نوپور کے ایک قدیم بدھ اسٹوپا کے کھنڈرات میں چرواہوں کو ایک لکڑی کا صندوق ملا۔ اس میں بھوج پتر پر لکھے ہوئے نادر سنسکرت مخطوطات محفوظ تھے، جن پر میرے پتوں کے عکس بھی بنے تھے جو میرے وجود کو 2500 سال سے مانتے چلے آے ہیں ۔جنہیں آج دنیا گلگت مخطوطات کے نام سے جانتی ہے۔ یہ نایاب علمی خزانہ مہاراجہ ہری سنگھ تک پہنچایا گیا، جنہوں نے اس کی اہمیت فوراً پہچان لی۔ 1947ء کے قبائلی حملے کے دوران، جب سرینگر خطرے میں تھا، ان قیمتی مخطوطات کو خصوصی طیارے کے ذریعے دہلی منتقل کیا گیا تاکہ علم کی یہ امانت جنگ کی نذر نہ ہو جائے۔ آج بھی وہ انسانی تہذیب کے نادر ترین علمی سرمائے میں شمار ہوتے ہیں۔‘‘نوجوان چنار تلخ مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔’’کتابوں کو بچانے کے لیے انسان جہاز بھیج دیتا ہے، مگر اُن کتابوں میں لکھے سبق بچانے کے لیے شاید ابھی بھی کوئی سواری ایجاد نہیں ہوئی۔‘‘
میں کچھ دیر خاموش رہا۔ ڈل جھیل پر سورج پوری آب و تاب سے نمودار ہو چکا تھا۔ پانی سنہری روشنی سے جھلملانے لگا تھا اور زبرون کے پہاڑ یوں محسوس ہوتے تھے جیسے وقت خود ان کی چوٹیوں پر بیٹھ کر صدیوں کا حساب لکھ رہا ہو۔ ہوا نے ایک بار پھر چنار کے پتوں کو چھوا تو یوں لگا جیسے گفتگو ابھی ختم نہیں ہوئی۔میں نے اگلا سوال کیا۔’’مغلوں کا کشمیر سے عشق کیسا تھا؟‘‘درمیانی چنار نے ڈل جھیل کی طرف دیکھا اور بولا۔’’1586ء میں اکبر نے یوسف شاہ چک کی شکست کے بعد کشمیر کو مغلیہ سلطنت میں شامل کیا۔ اس کے بعد جہانگیر، نورجہاں اور شاہجہاں بارہا اس وادی میں آئے۔ انہوں نے یہاں صرف قیام نہیں کیا بلکہ باغبانی کو ایک فن بنا دیا۔ شالیمار، نشاط، چشمۂ شاہی، پری محل اور بے شمار باغات آج بھی اس ذوقِ جمال کے امین ہیں۔جہانگیر نے اسی سرزمین کو دیکھ کر وہ تاریخی الفاظ کہے تھے۔ ؎
‘اگر فردوس بر روئے زمیں است،
ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است
لیکن تاریخ کا طنز بھی عجیب ہے۔ جس سرزمین کو سب نے جنت کہا، اسی جنت کے اختیار پر سب سے زیادہ تلواریں اٹھیں۔‘‘نوجوان چنار مسکرایا۔’’انسان کو جنت سے زیادہ اس کی ملکیت عزیز ہوتی ہے۔‘‘میں نے پوچھا۔’’مغلوں کے بعد کیا ہوا؟‘‘درمیانی چنار کی آواز بھاری ہو گئی۔’’1752ء میں احمد شاہ درانی نے کشمیر کو مغلوں سے لے لیا۔ افغان دور سخت ٹیکسوں، ظلم اور عوامی مصائب کی تلخ یادوں سے وابستہ ہے۔ 1819ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سکھ فوجیں آئیں۔ پھر 1846ء میں معاہدۂ لاہور اور معاہدۂ امرتسر کے بعد مہاراجہ گلاب سنگھ نے ڈوگرہ ریاست کی بنیاد رکھی، جو 1947ء تک قائم رہی۔سلطنتیں بدلتی رہیں، مگر کسان کی ہتھیلی کی سختی، مزدور کی تھکن اور ماں کی آنکھوں کا انتظار کم نہ ہوا۔‘‘
بوڑھے چنار نے آہستہ سے کہا۔’’اقتدار ہمیشہ اپنے قصے لکھتا ہے، لیکن عوام کی تاریخ اکثر آنسو لکھتے ہیں۔‘‘میں نے سوال کیا۔’’آپ نے جدید کشمیر کو کس نظر سے دیکھا؟‘‘
بوڑھے چنار نے گہری سانس لی۔’’ہم نے 1931ء کی بیداری بھی دیکھی، گلانسی کمیشن بھی، 1947ء کی آگ بھی، جنگیں بھی، امن کی کوششیں بھی اور بدلتے ہوئے سیاسی موسم بھی۔ ہم نے نسلوں کو امید کے ساتھ اٹھتے اور مایوسی کے ساتھ جھکتے دیکھا۔لیکن ایک بات ہر دور میں سچی رہی۔جو قوم اپنی تہذیب اور علم کو سنبھال لیتی ہے، اسے وقت کبھی مکمل شکست نہیں دے سکتا۔‘‘
نوجوان چنار نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ کہا۔’’اپوزیشن میں سب درخت لگانے کی بات کرتے ہیں، اقتدار میں پہنچتے ہی فائلوں کے جنگل اگانے لگتے ہیں۔ صبح ایک دوسرے کو غدار کہتے ہیں، شام کو ایک ہی دسترخوان پر بیٹھے ہوتے ہیں۔ سیاست شاید موسموں سے بھی زیادہ تیزی سے رنگ بدلتی ہے۔‘‘چنار بی بی نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
’’بیٹا، طنز ضرور کرو، مگر امید کا چراغ کبھی بجھنے نہ دینا۔ نفرت کسی ماں کی گود آباد نہیں کرتی، اور محبت کبھی شکست نہیں کھاتی، چاہے دیر سے جیتے۔‘‘میں نے ادب کا ذکر چھیڑا۔
چنار بی بی کی شاخیں ہلکے سے جھوم اٹھیں۔’’حبہ خاتون نے محبت کو آواز دی، لال دید نے روح کو آزادی، نند ریشی نے انسان دوستی کو عبادت بنایا، روپا بھوانی نے عرفان کے چراغ جلائے، ارنیمال نے دکھ کو گیت بنایا، محمود غامی نے فارسی روایت کو کشمیری احساس سے جوڑا اور رسول میر نے عشق کو ایسی زبان دی جو آج بھی بہار کی ہوا میں مہکتی ہے۔
یہ سب ہمارے سائے میں بیٹھے، خواب دیکھتے، لکھتے، روتے اور اپنی روح کو لفظوں میں ڈھالتے رہے۔‘‘
بوڑھے چنار نے کہا۔
’’اگر کبھی ہماری چھال پڑھنے کا ہنر آ جائے تو کشمیر کی ادبی تاریخ کی کئی گم شدہ سطریں پھر سے زندہ ہو جائیں۔‘‘میں نے ادب سے سر جھکا کر آخری سوال کیا۔’’کشمیر کے لوگوں کے نام آپ کا پیغام؟‘‘بوڑھے چنار کی آواز میں صدیوں کا وقار تھا۔’’ہم نے اشوک، کنشک، للتادتیہ، شاہ میر، زین العابدین، اکبر، جہانگیر، افغان، سکھ، ڈوگرہ اور جدید زمانے کے سب نشیب و فراز دیکھے۔ سب آئے، سب چلے گئے۔جو باقی رہا وہ انسان کا کردار، اس کی تہذیب، اس کا علم اور اس کی محبت تھی۔‘‘درمیانی چنار نے چند پتے زمین پر گرا دیے۔’’ہم ہر خزاں اپنے پتے اس یقین کے ساتھ گراتے ہیں کہ بہار ضرور آئے گی۔ فطرت کبھی امید ترک نہیں کرتی۔‘‘
چنار بی بی نے دھیرے سے کہا۔’’اپنے اختلافات کو اتنا بڑا نہ ہونے دو کہ وہ تمہاری مشترکہ یادداشت کو نگل جائیں۔ کشمیر صرف ایک جغرافیہ نہیں، ایک تہذیب، ایک روایت، ایک زبان، ایک احساس اور ایک امانت ہے۔‘‘آخر میں نوجوان چنار مسکرایا، مگر اس بار اس کی مسکراہٹ میں طنز سے زیادہ درد تھا۔’’ہم تو ہر سال پرانے پتے گرا دیتے ہیں تاکہ نئی کونپلیں جنم لے سکیں، مگر انسان صدیوں پرانے تعصب اپنے سینے سے لگائے رکھتا ہے، پھر حیران ہوتا ہے کہ اس کے موسم کیوں نہیں بدلتے۔‘‘
میں خاموشی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ڈل جھیل اب پوری طرح سورج کی روشنی میں نہا چکی تھی۔ زبرون کے پہاڑ اپنی پوری شان سے ایستادہ تھے۔ شکارے اپنی منزلوں کی طرف رواں تھے اور ہوا میں چنار کے پتوں کی مہک گھلی ہوئی تھی۔میں نے پلٹ کر آخری بار اُن چاروں چناروں کو دیکھا۔وہ خاموش کھڑے تھے، جیسے اپنی گواہی مکمل کر چکے ہوں۔
اسی لمحے ایک زرد پتہ ٹوٹ کر میرے قدموں میں آ گرا۔میں نے اسے اٹھایا۔وہ صرف ایک پتہ نہیں تھا۔وہ برزہوم کی مٹی، اشوک کی بصیرت، کنشک کی مجلس، للتادتیہ کی عظمت، کلہن کی راج ترنگنی، لال دید کے واخ، نند ریشی کی انسان دوستی، شاہ ہمدان کے ہنر، زین العابدین کی رواداری، جہانگیر کی حیرت، حبہ خاتون کی آہ، ارنیمال کے آنسو، محمود غامی کی شاعری، رسول میر کی محبت، گلگت کے مخطوطات کی علمی روشنی، 1931ء کی بیداری اور آنے والے کل کی امید کا ایک خاموش ورق تھا۔
میں نے وہ پتہ اپنی کتاب میں رکھ لیا۔اس لیے نہیں کہ وہ ایک سوکھا ہوا پتہ تھا، بلکہ اس لیے کہ وہ مجھے یاد دلاتا رہے کہ تہذیبیں صرف قلعوں، تختوں اور جنگوں سے زندہ نہیں رہتیں۔ وہ اپنے ادب، اپنے علم، اپنی یادداشت اور اپنے درختوں سے زندہ رہتی ہیں۔
میں نے آخری بار پلٹ کر دیکھا۔چاروں چنار خاموش تھے۔تب مجھے احساس ہوا کہ درخت تاریخ نہیں لکھتے، مگر تاریخ کے سب سے معتبر گواہ ضرور ہوتے ہیںاور ڈل کی لہروں نے جیسے میرے دل میں یہ آخری جملہ ثبت کر دیا۔’’تاریخ انسان قلم سے لکھتا ہے، مگر سچائی ہمیشہ فطرت محفوظ رکھتی ہے۔‘‘